آرسین وینگر نے تصدیق کی ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کی نجکاری کے منصوبے کو ختم کرنا کھیل کی ساکھ بچانے کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ آرسینل کے سابق مینیجر، جو فیفا کے چیف آف گلوبل فٹ بال ڈویلپمنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے اس ہفتے فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کے موقف سے کھل کر اختلاف کیا۔
فیفا ورلڈ کپ کا منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟
یہ متنازع منصوبہ مستقبل کے ٹورنامنٹس میں نجی سرمایہ کاروں کو بڑے مالی حصص فروخت کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ پاکستان میں، جہاں کراچی سے لاہور تک کے کیفے میں ورلڈ کپ ایک تہوار کی طرح دیکھا جاتا ہے، اس خبر نے شائقین میں تشویش پیدا کر دی تھی کہ کہیں ٹکٹوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور نہ ہو جائیں۔
وینگر اور فیفا کے سیکریٹری جنرل میٹیاس گرافسٹروم نے واضح کیا کہ تنظیم کو اپنے سب سے بڑے ایونٹ کے کمرشل حقوق پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق انفنٹینو کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاروں کے ذریعے فوری سرمایہ اکٹھا کرنے کی کوشش کو فٹ بال کے اہم ذمہ داران کی حمایت حاصل نہیں تھی۔
فٹ بال کا مستقبل محفوظ بنانا
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیفا کے انتظامی ڈھانچے میں شفافیت کی اشد ضرورت ہے۔ نجکاری کے منصوبے سے دوری اختیار کر کے، وینگر اور گرافسٹروم نے ٹورنامنٹ کو منافع خور پرائیویٹ ایکویٹی فرموں کے اثر و رسوخ سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
- انتظامی استحکام: فیصلے فٹ بال کے اسٹیک ہولڈرز کے پاس رہنا ضروری ہیں۔
- مالی خود مختاری: نجی سرمایہ کاروں کے قرضوں کے بوجھ سے بچاؤ۔
- شائقین کا تجربہ: ٹورنامنٹ کو دنیا بھر کے شائقین کے لیے قابلِ رسائی رکھنا۔
پاکستانی فٹ بال شائقین کے لیے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ کھیل کے روح کو مالی مفادات پر فوقیت دینا عالمی سطح پر کھیل کی بقا کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اگرچہ موجودہ منصوبہ ختم ہو چکا ہے، لیکن فیفا کے مالیاتی معاملات پر بحث جاری رہے گی۔ آئندہ فیفا کانگریس کے اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں آمدنی بڑھانے کے نئے طریقوں پر بات ہوگی۔ اگر آپ کھیلوں کے کاروبار میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یہ دیکھیں کہ کیا فیفا حصص فروخت کرنے کے بجائے روایتی اسپانسرشپ ڈیلز پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس فیصلے کا اثر جنوبی ایشیا میں 2030 کے ٹورنامنٹس کی نشریاتی حقوق پر پڑ سکتا ہے۔
