آرٹیکل 370 کے خاتمے کی ساتویں برسی، جو 5 اگست 2026 کو منائی گئی، جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر (PoJK) کے درمیان ترقی اور استحکام کے بڑھتے ہوئے فرق کو نمایاں کرتی ہے۔
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اثرات
5 اگست 2019 کو ہونے والی آئینی تبدیلیوں کے بعد سے، جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے انفراسٹرکچر اور سیاحت پر توجہ مرکوز کی ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق، اس خطے کو بھارت کے کھیلوں کے نقشے پر لایا جا رہا ہے، جہاں اسٹیڈیمز اور مقامی ٹیلنٹ پروگراموں میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 5 اگست 2026 کو اپنے بیان میں کہا کہ اس اقدام نے جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے 'امن، ترقی اور مساوی مواقع' کا ایک نیا دور شروع کیا ہے۔
اس کے برعکس، آزاد کشمیر (PoJK) مسلسل بے چینی کا شکار ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اس خطے میں بجلی کی قیمتوں اور آٹے کے مہنگے داموں کے خلاف شدید احتجاج ہوا ہے، جو مقامی حکمرانی سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں بھارتی زیر انتظام خطہ سیاحت اور کھیلوں کے مراکز کو فروغ دے رہا ہے، وہیں لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف کی صورتحال سول مظاہروں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مطالبات سے عبارت ہے۔
معاشی اور سماجی فرق
ایک عام شہری کے لیے، یہ فرق تیزی سے واضح ہو رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں 'سپورٹس ٹورازم' پر توجہ کا مقصد نوجوانوں کو مشغول کرنا اور بین الاقوامی مقابلوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ دوسری جانب، آزاد کشمیر میں رہائشیوں نے سبسڈی کی کمی اور مہنگائی کے بوجھ کے خلاف بارہا سڑکوں پر احتجاج کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے ان معاشی دباؤ کو کم کرنے میں ناکامی نے ہڑتالوں اور ناکہ بندیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس نے بڑے شہروں میں معمول کی زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔
- انفراسٹرکچر: جموں و کشمیر میں اسپورٹس کمپلیکس اور ڈیجیٹل رابطوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
- معاشی استحکام: آزاد کشمیر میں مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلوں کی قیمتیں بے چینی کی بنیادی وجہ ہیں۔
- حکمرانی: نئی دہلی کی جانب سے انضمام پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر آپ خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تو یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آنے والے موسم سرما میں آزاد کشمیر کی انتظامیہ کا استحکام کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ بنیادی اشیاء جیسے آٹے کی قیمت اور بجلی کے ٹیرف کلیدی اشارے ہیں جن پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ جموں و کشمیر میں، کھیلوں کے نئے اقدامات کی کامیابی کا دارومدار مسلسل سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینے پر ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں خطوں کے درمیان ترقی کا یہ فرق 2026 کے باقی مہینوں میں بھی علاقائی گفتگو کا مرکز رہے گا۔
