جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو آج پورے سات سال بیت گئے ہیں اور اس موقع پر پاکستان بھر میں اپوزیشن جماعتیں اور مختلف حلقے 'یوم سیاہ' منا رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کے 2019 کے اس متنازع قدم کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکےـ
پولیس اور مقامی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سخت حفاظتی ہدایات جاری کی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ مجاز افسر سے پیشگی اجازت لیے بغیر کسی بھی قسم کا عوامی اجتماع، جلوس یا احتجاجی مظاہرہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ شہروں کے اہم مقامات اور مرکزی راستوں پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
سکیورٹی کے سخت اقدامات اور انتظامی پابندیاں
انتظامیہ کی جانب سے لگائی جانے والی ان پابندیوں نے سیاسی جماعتوں کی ریلیوں کے منصوبوں کو محدود کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کی روانوانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ضابطہ اخلاق کی پابندی لازمی ہے۔ اگر آپ آج کسی اہم کام کے لیے گھر سے نکل رہے ہیں تو سکیورٹی چیک پوسٹوں اور ممکنہ دباؤ کی وجہ سے اپنے سفر کا دورانیہ زیادہ رکھیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے انتظامیہ کی جانب سے لگائی جانے والی ان راستوں کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ تاہم، سکیورٹی خدپیش کے پیش نظر بڑی سیاسی جماعتیں اب کھلے عام سڑکوں پر جلوس نکالنے کے بجائے بند ہالوں میں تقاریب اور پریس کانفرنسز پر زیادہ زور دے رہی ہیں۔
آج کے دن آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کو آج شہر کے اہم دورے کرنے ہیں تو کچھ بنیادی باتوں کا خیال ضرور رکھیں تاکہ آپ کسی بڑی مشکل سے بچ سکیں:
- گھر سے نکلنے سے پہلے ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ اپڈیٹس اور روٹس کا جائزہ ضرور لیں۔
- پریس کلبز یا ریڈ زون کے قریب واقع شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
- اپنے ساتھ ہمیشہ شناختی کارڈ رکھیں تاکہ کسی بھی پولیس ناکہ بندی پر آپ کو پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
- راستوں پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
آگے کیا متوقع ہے
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ انتظامیہ غیر قانونی اجتماعات کے خلاف کتنی سختی سے عمل درآمد کرتی ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس حوالے سے قراردادیں پیش کیے جانے کا امکان ہے جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ردعمل پر بھی سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
