معروف پاکستانی اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ٹیلی ویژن انڈسٹری کی کاسٹنگ کے طریقہ کار پر کھل کر بات کرتے ہوئے ڈرامہ سیریل درِ نجات میں صبا حمید کو فرحان طاہر کی والدہ کے طور پر کاسٹ کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔ ایک حالیہ ٹیلی ویژن شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صبا حمید اس عمر یا پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ فرحان طاہر جیسی عمر کے اداکار کی ماں کا کردار ادا کریں۔

اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور ڈرامہ بینوں کے درمیان بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ناظرین طویل عرصے سے اس بات پر تنقید کرتے آئے ہیں کہ پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں تجربہ کار اداکاراؤں کو وقت سے پہلے بوڑھے کرداروں یا دادی نانی کے سانچے میں ڈھال دیا جاتا ہے، جبکہ اسی عمر کے مرد اداکار تاحال اہم اور ہیرو کے کردار نبھا رہے ہیں۔

پاکستانی ڈراموں میں عمر کے تضاد کا مسئلہ

عتیقہ اوڈھو کی جانب سے اٹھایا گیا یہ نکتہ دراصل انڈسٹری کی ایک پرانی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پروڈکشن ہاؤسز اکثر صنف کی بنیاد پر فیصلوں میں توازن نہیں رکھتے۔ صبا حمید اور فرحان طاہر دونوں ہی پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے انتہائی معتبر اور سینئر فنکار ہیں، اور ان میں سے ایک کو دوسرے کی والدہ کے روپ میں دیکھنا ناظرین کے لیے بھی غیر فطری محسوس ہوتا ہے۔

ناظرین اور مبصرین کی رائے

اگرچہ درِ نجات ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن اس کی کاسٹنگ کے فیصلے اب سوشل میڈیا مبصرین کی تنقید کی زد میں ہیں۔ ناظرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈرامہ سازوں کو خاندانی رشتوں کو دکھاتے وقت زمینی حقائق اور اداکاروں کی حقیقی عمر کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس بحث کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- مرد اداکاروں کے مقابلے میں خواتین اداکاروں کو جلد بوڑھا ظاہر کرنے کا رجحان۔
- خاندانی ڈراموں میں حقیقت پسندانہ خلیج کا فقدان۔
- پروڈکشن ہاؤسز کی جانب سے اداکاروں کے کیریئر اور سینارٹی کا خیال نہ رکھنا۔

آگے کیا دیکھنا چاہیے

اگر آپ پاکستانی ڈراموں کے پسِ پردہ معاملات اور انڈسٹری کے ناقدانہ تبصروں میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو ایسے شوز اور ریویو شوز پر نظر رکھیں جو ان روایات پر کھل کر بات کرتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح کی عوامی تنقید کے بعد مستقبل کے پراجیکٹس میں کاسٹنگ کے فیصلوں میں مزید احتیاط برتی جائے گی۔