پاکستان میں آٹو سیکٹر بحران اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کار ساز اداروں اور پارٹس سپلائرز نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستان آٹو مووموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) اور مقامی وینڈرز ایسوسی ایشنز کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ اگر فوری حکومتی اقدامات نہ کیے گئے تو گاڑیوں کی اسمبلی لائنیں مکمل طور پر بند ہو سکتی ہیں۔ ملک میں مہنگائی کی شرح، درآمدی ڈیوٹیز، آٹو فنانسنگ کی بلند شرح سود اور شہریوں کی گھٹتی ہوئی خریداری کی صلاحیت نے اس صنعت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں قائم کاروں کے کارخانے اس وقت شدید ترین مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
آٹو سیکٹر کا بحران کیوں شدت اختیار کر رہا ہے؟
گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں کاروں کے کارخانے خام مال کی کمی اور خریداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کئی بار عارضی طور پر بند رہ چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود زیادہ رکھے جانے کی وجہ سے مڈل کلاس طبقے کے لیے کار فنانسنگ لینا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جس سے ماہانہ اقساط عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پروڈکشن میں نمایاں کمی کی وجہ سے کار سازوں کی لاگت پوری نہیں ہو رہی۔ ٹائر، بیٹری اور دیگر پرزہ جات فراہم کرنے والے وینڈرز کو بھی بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
- مہنگے بینک قرضوں کی وجہ سے آٹو فنانسنگ کا شعبہ بیٹھ چکا ہے۔
- خام مال کی درآمدی پابندیوں نے پیداواری عمل کو متاثر کیا ہے۔
- کارخانوں کے اخراجات زیادہ ہیں جبکہ گاڑیوں کی فروخت ریکارڈ کم سطح پر ہے۔
صنعت کاروں کی حکومت سے کیا توقعات ہیں؟
گاڑیوں کے مینوفیکچررز حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر فوری اجلاس طلب کرے اور ایک ریسکیو پیکج کا اعلان کرے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ٹیکسوں میں چھوٹ نہ دی گئی اور خام مال پر ڈیوٹیز کو معقول نہ بنایا گیا تو یہ صنعتی ڈھانچہ تباہ ہو جائے گا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے ہزاروں ورکرز اور سپلائی چین سے جڑے لاکھوں افراد کے روزگار کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔ پاما کے اراکین کا کہنا ہے کہ اس شعبے کو نظر انداز کرنے سے ملک میں بے روزگاری بڑھے گی اور سرکاری ریونیو کو بھی بڑا نقصان پہنچے گا۔
ایک خریدار یا سرمایہ کار کے طور پر آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ پاکستان میں کوئی نئی مقامی گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو فی الحال صبر سے کام لینا بہتر حکمت عملی ہوگی۔ کچھ ماڈلز کے پاس ڈیلرز کے پاس گاڑیاں موجود ہیں، جس کی وجہ سے ڈسکاؤنٹ یا پروموشنل آفرز مل سکتی ہیں لیکن بینک قرضے پر گاڑی لینا اب بھی ایک مہنگا سودا ہے۔ اگر آپ کو فوری گاڑی کی ضرورت ہے تو سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ کا رخ کرنا زیادہ مناسب رہے گا تاکہ آپ زیادہ مارک اپ کے بوجھ سے بچ سکیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
اس وقت تمام نگاہیں وزیراعظم سیکرٹریٹ پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ پاما کے وفد سے فوری ملاقات کا وقت طے کرتے ہیں یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا حکومت سی کے ڈی کٹس پر کوئی ریلیف دیتی ہے یا وینڈرز کے لیے آسان شرائط پر قرضے بحال کرتی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید فیکٹریوں کی بندش ناگزیر ہو سکتی ہے۔
