پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں اس وقت ایک اہم موڑ پر ہیں جب ملک کے آٹو ساز اداروں نے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ کراچی میں موجود انڈسٹری کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2026-31 کے تحت مجوزہ ڈیوٹی کٹس سے مقامی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر آپ نئی گاڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں یا ملکی معیشت کی حالت دیکھ رہے ہیں، تو حکومت اور کار سازوں کی یہ کشمکش آپ کی روزمرہ کی زندگی اور بچتوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
نیشنل ٹیرف پالیسی 2026-31 اور درآمدی ڈیوٹیز
اس پورے معاملے کی جڑ وہ اصلاحات ہیں جو حکومت نیشنل ٹیرف پالیسی 2026-31 کے تحت نافذ کرنے جا رہی ہے۔ مقامی اسمبلی پلانٹس کا کہنا ہے کہ اگر باہر سے تیار شدہ گاڑیاں سستی ہو کر آئیں تو یہاں گاڑیاں بنانے والے مقامی کارخانے مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ دہائیوں سے مقامی انڈسٹری کو حفاظتی ڈیوٹیز کا سہارا حاصل رہا ہے، جس کی وجہ سے یہاں بننے والی گاڑیوں کے دام ہمیشہ زیادہ رہے ہیں۔ اب خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر باہر سے مال آنا آسان ہو گیا تو مقامی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔
فیکٹریوں کی بندش اور بے روزگاری کا خطرہ
وزیر اعظم کو بھیجے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈیوٹی کم ہونے سے ملک بھر بالخصوص کراچی، لاہور اور دیگر صنعتی شہروں میں فیکٹریاں بند ہو سکتی ہیں۔ اس شعبے سے وابستہ ہزاروں کاریگر، پارٹس بنانے والے چھوٹے دکاندار اور ڈیلرشپ کا عملہ بے روزگار ہو سکتا ہے۔ جب مقامی پیداوار کم ہوتی ہے تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کو ملنے والے ٹیکسز میں بھی کمی آتی ہے، جو پہلے ہی مالی بحران کا شکار ملکی معیشت کے لیے ایک اور دھکا ہوگا۔
آپ کی جیب پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
عام شہری جو مہنگائی کے دور میں سستی گاڑی کا خواب دیکھ رہا ہے، وہ اس خبر کو اپنے لیے اچھا سمجھ سکتا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وقتی سستی طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر مقامی انڈسٹری بیٹھ گئی تو آپ کو اسپیئر پارٹس کے لیے درآمدی اشیاء پر انحصار کرنا پڑے گا، اور ڈالر کی اونچی پرواز کی وجہ سے مینٹیننس کے اخراجات آسمان کو چھونے لگیں گے۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ گاڑیوں کی ری سیل مارکیٹ پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کو فوری طور پر گاڑی خریدنی ہے تو پالیسی کے حتمی فیصلوں کا انتظار کیے بغیر مارکیٹ کا جائزہ لیں۔ وزارتِ تجارت اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے آنے والے فیصلوں پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ آنے والے دنوں میں گاڑیوں کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں کیا ردوبدل ہونے جا رہا ہے۔
