عوام پاکستان کی ڈی لسٹنگ کا معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے جب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں قائم اس سیاسی جماعت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے حالیہ فیصلے کو باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا ہے۔

عوام پاکستان کی ڈی لسٹنگ اور قانونی چارہ جوئی

الیکشن کمیشن نے پارٹی کو انٹرا پارٹی انتخابات کروانے میں ناکامی کی بنیاد پر فہرست سے خارج کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ اس کے جواب میں پارٹی قیادت نے کمیشن کے اقدام کو 'غیر ضروری' اور قانونی طور پر ناقص قرار دیا ہے۔ پارٹی نے ایک باضابطہ درخواست دائر کی ہے جس میں فوری سماعت کی استدعا کی گئی ہے تاکہ وہ اپنا موقف پیش کر سکیں اور اندرونی جمہوریت کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کی وضاحت کر سکیں۔

پارٹی نمائندوں کے مطابق، الیکشن کمیشن کا فیصلہ ان مخصوص ٹائم لائنز اور طریقہ کار کو مدنظر نہیں رکھتا جو پارٹی نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر، 2002 کی تعمیل کے لیے اپنائے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن کا اقدام ان دستاویزات کو نظر انداز کرتا ہے جو پارٹی سیکرٹریٹ پہلے ہی جمع کروا چکی ہے۔

انٹرا پارٹی انتخابات کی اہمیت

پاکستانی قانون کے تحت تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں تاکہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت برقرار رہے۔ الیکشن کمیشن ان عمل کی سختی سے نگرانی کرتا ہے تاکہ سیاسی گروہ جمہوری اور شفاف رہیں۔ تعمیل نہ کرنے پر پارٹی کا انتخابی نشان واپس لیا جا سکتا ہے اور اسے فہرست سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔

عوام پاکستان کی ڈی لسٹنگ کے معاملے پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ قانونی جنگ نئی سیاسی جماعتوں اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان جاری کشیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ پارٹی، جو خود کو اصلاح پسند پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرتی ہے، کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے کام میں مکمل شفاف رہی ہے اور الیکشن کمیشن کا یہ اقدام بیوروکریٹک زیادتی ہے جو قومی سیاسی میدان میں اس کی فعالیت کو متاثر کر رہی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

پارٹی اب درخواست کردہ ہنگامی سماعت کی تاریخ کی منتظر ہے۔ اگر الیکشن کمیشن اپنے موقف پر قائم رہتا ہے، تو پارٹی کو حکم امتناعی یا ڈی لسٹنگ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ حامیوں اور ممکنہ اراکین کے لیے، غیر یقینی صورتحال کا یہ دور پارٹی کی عوامی رابطے کی مہمات اور انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔

اگر آپ پارٹی کے رکن ہیں یا اس معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو سماعت کے شیڈول کے بارے میں اپ ڈیٹس کے لیے الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ (ecp.gov.pk) پر نظر رکھیں۔ اس کیس کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں دیگر ابھرتی ہوئی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا۔