سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر قیادت قائم ہونے والی سیاسی جماعت 'عوام پاکستان' نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی جانب سے پارٹی کو ڈی لسٹ کرنے کے اقدام کو چیلنج کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر فوری سماعت کی جائے۔

عوام پاکستان کی ڈی لسٹنگ کا تنازعہ

الیکشن کمیشن نے عوام پاکستان کو انٹرا پارٹی انتخابات (اندرونی انتخابات) نہ کروانے کے الزام میں ڈی لسٹ کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ پارٹی قیادت نے اس فیصلے کو غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کی قانونی ٹیم کا موقف ہے کہ کمیشن نے انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا اور یکطرفہ کارروائی کی گئی۔

انتخابی قوانین اور ذمہ داریاں

الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت ہر رجسٹرڈ سیاسی جماعت کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ ایک مقررہ مدت کے اندر اپنے اندرونی انتخابات کروائے اور عہدیداران کا انتخاب کرے۔ اس شرط کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کر دے۔ عوام پاکستان کے لیے یہ ایک بڑا سیاسی بحران ہے، کیونکہ رجسٹریشن منسوخ ہونے کی صورت میں وہ آئندہ انتخابی عمل میں حصہ لینے سے محروم ہو سکتی ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

  • الیکشن کمیشن کی جانب سے ہنگامی سماعت کی درخواست پر فیصلہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
  • اگر کمیشن کی جانب سے ریلیف نہ ملا تو پارٹی عدالت سے رجوع کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
  • سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس اس بات کا تعین کرے گا کہ نئی سیاسی جماعتوں کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات کے قوانین کا اطلاق کتنا سخت ہے۔

عوام پاکستان کے حامی اور کارکن اس فیصلے کے منتظر ہیں کہ آیا کمیشن ان کے دلائل کو تسلیم کرتا ہے یا رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے الیکشن کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ ecp.gov.pk پر نظر رکھیں۔