بھارتی حکومت نے آیوشمان بھارت ہیلتھ انشورنس اسکیم میں بڑے پیمانے پر ہونے والی جعل سازی کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 2359 ہسپتالوں کو اپنی پینل لسٹ سے خارج کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے 7 اگست 2024 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں تصدیق کی کہ حکومت نے ان ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کی ہے، جن میں سے 1200 ہسپتالوں کو مکمل طور پر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔

آیوشمان بھارت ہیلتھ انشورنس اسکیم فراڈ کی تفصیلات

یہ فیصلہ ان تحقیقات کے بعد کیا گیا جن میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی نجی ہسپتال انشورنس کی رقم بٹورنے کے لیے مریضوں کے جعلی ریکارڈ بنا رہے تھے۔ یہ ہسپتال انشورنس کلیم حاصل کرنے کے لیے ایسی سرجریوں اور طبی سہولیات کے بل بناتے تھے جو کبھی فراہم ہی نہیں کی گئیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی فنڈز کی لوٹ مار کو روکنے کے لیے یہ سخت اقدامات ناگزیر تھے۔

وزیر صحت کے مطابق حکومت اب ڈیجیٹل ٹریکنگ کا استعمال کر رہی ہے تاکہ ان ہسپتالوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں مریضوں کے داخلے اور ڈسچارج کے اعداد و شمار مشکوک ہیں۔

مریضوں پر اثرات اور احتیاطی تدابیر

ہسپتالوں کی اتنی بڑی تعداد کے اخراج سے مستفید ہونے والے ہزاروں مریض متاثر ہوں گے جنہیں اب علاج کے لیے متبادل مراکز تلاش کرنے ہوں گے۔ اگر آپ یا آپ کے اہل خانہ اس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ہیں، تو درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

  • سرکاری ویب سائٹ پر جا کر اپنے قریبی ہسپتالوں کی تازہ ترین فہرست چیک کریں۔
  • کسی بھی غیر ہنگامی سرجری سے پہلے ہسپتال کی موجودہ حیثیت کی تصدیق کریں۔
  • اگر کوئی ہسپتال غیر قانونی مطالبات کرتا ہے تو سرکاری پورٹل پر شکایت درج کروائیں۔

اگلا قدم کیا ہوگا؟

وزارت صحت نے اشارہ دیا ہے کہ یہ آڈٹ کا پہلا مرحلہ ہے۔ حکومت اب مریضوں کے داخلے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں جعل سازی کو روکا جا سکے۔ ان ہسپتالوں کے ہٹنے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے حکومت جلد ہی نئے مراکز کو پینل میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی طبی سہولت کے حصول سے قبل متعلقہ ضلعی ہیلتھ اتھارٹی سے رابطہ کریں تاکہ کسی بھی پریشانی سے بچا جا سکے۔