آزاد کشمیر انتخابات کے تناظر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران برطانوی شہریت کے حامل ایک شہری کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، تاہم خوش قسمتی سے اہلخانہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
برطانوی پاسپورٹ کے حامل ذوالقرنین اپنے کزن کی شادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ جب وہ ایک مقام پر سفر کر رہے تھے تو اچانک حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر سیدھی گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ گاڑی کو متعدد گولیاں لگیں اور شیشے مکمل طور پر ٹوٹ گئے، لیکن گاڑی میں سوار تمام افراد بال بال بچ گئے اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔
واقعہ کی تفصیلات اور علاقے میں خوف و ہراس
اس اچانک حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور راہگیروں نے محفوظ مقامات پر پناہ لی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ فائرنگ ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھی یا اس کا تعلق آنے والے آزاد کشمیر انتخابات کی انتخابی عداوتوں سے ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے خول اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات
انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے پرتشدد واقعات نے عام شہریوں اور بالخصوص بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی اکثر شادی بیاہ یا تعطیلات کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ اکثر مقامی سیاسی تنازعات کی زد میں آ جاتے ہیں۔
عوامی حلقوں اور مقامی عمائدین نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی اسلحے کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
- نامعلوم ملزمان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
- سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
- حساس علاقوں میں پولیس گشت اور ناکوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
ایسے حالات میں آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ان دنوں آزاد کشمیر یا کسی بھی ایسے علاقے میں موجود ہیں جہاں سیاسی کشیدگی زیادہ ہے، تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ انتخابی دفاتر، جلس جلوسوں اور مشکوک اجتماعات کے قریب جانے سے بچیں۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پولیس کے ہیلپ لائن نمبرز پر فوری رابطہ کریں اور اپنے سفر کے دوران روٹس کا خاص خیال رکھیں۔ اپنی گاڑی کے گرد کسی مشکوک نقل و حرکت کی فوری اطلاع قریبی تھانے کو دیں۔
آگے کیا متوقع ہے؟
پولیس پر ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کے لیے شدید دباؤ ہے۔ آئندہ چند روز میں قانون نافذ کرنے والا ادارے اس حوالے سے اہم گرفتاریاں متوقع کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ پولنگ کے دنوں میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
