پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ڈرامہ سیریل 'بس تیرا ساتھ ہو' کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کرکے کراچی پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس کلپ میں اداکار فرحان سعید اور ثنا کو دکھایا گیا ہے، اور اس پوسٹ کو کراچی کے شہری انفراسٹرکچر پر سندھ حکومت کی کارکردگی پر طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کراچی پبلک ٹرانسپورٹ کیوں تنقید کی زد میں ہے؟
عظمیٰ بخاری کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کو کراچی کے شہریوں کے روزمرہ کے سفری مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ڈرامے کا منظر ہے، لیکن اس نے ان مشکلات کو اجاگر کیا ہے جن کا سامنا کراچی کے عام آدمی کو کرنا پڑتا ہے۔ گرین لائن بی آر ٹی اور دیگر منصوبوں کے باوجود، شہر کی ضرورت اور موجودہ سہولیات کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔ کورنگی، اورنگی اور شہر کے دیگر حصوں کے درمیان رابطے کا فقدان نچلے اور درمیانے طبقے کے لیے مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ انہیں مہنگی نجی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
شہری نقل و حمل کی موجودہ صورتحال
- شہر بھر میں مربوط بس نیٹ ورک کا فقدان۔
- نجی طور پر چلنے والی پرانی بسوں پر انحصار۔
- ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سفری اخراجات پر اثر۔
- رات کے وقت سفری تحفظ کے مسائل۔
عوام صرف سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ چاہے وہ کراچی ہو یا لاہور، ٹیکس دہندگان کا پیسہ عوام کے لیے سستی اور محفوظ سفری سہولیات پر خرچ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کراچی میں روزانہ سفر کرتے ہیں تو سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (SMTA) کی جانب سے نئے بس روٹس کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ اگر آپ کے سفری اخراجات بہت زیادہ ہیں، تو پیٹرول کی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کار پولنگ پر غور کریں۔ سفر سے پہلے ٹرانزٹ لائنز کی صورتحال ضرور چیک کریں تاکہ آپ کو پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آئندہ صوبائی بجٹ پر نظر رکھیں کہ آیا اس میں فیڈر بس نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے کوئی ٹھوس رقم مختص کی گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، سندھ حکومت کے ترجمانوں کے ردعمل پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ توقع ہے کہ اس تنقید پر جلد باضابطہ بیان سامنے آئے گا۔
