پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ میں کھیلے جانے والے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی کپتان بابر اعظم کی ٹیسٹ سنچری کا طویل انتظار منگل کے روز بھی ختم نہ ہو سکا اور ویسٹ انڈیز نے شاندار کم بیک کیا۔ پاکستان میں رات گئے اسکور کارڈ پر نظریں رکھنے والے شائقین ایک بار پھر مایوس ہوئے جب ایک اچھی اننگز بڑی سنچری میں تبدیل نہ ہو سکی۔ بابر اعظم، جنھوں نے آخری بار چار سال قبل ٹیسٹ سنچری اسکور کی تھی، کریز پر جم کر کھیل رہے تھے تاہم کیریبین ٹیم نے دن کے اختتام سے قبل اہم وکٹیں حاصل کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

کیریبین سرزمین پر سنچری کا سنہری موقع ضائع

گزشتہ چند سیزنز سے بابراعظم کی سنچری کا خشک سالی پاکستانی شائقینِ کرکٹ کے درمیان ایک بڑا بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ پچ پر باؤنس اور رفتار میں تبدیلی کے باوجود دائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے شاندار اسٹروکس کھیلے، لیکن اننگز کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنے میں ناکامی نے ٹیم کی مڈل آرڈر کو دباؤ میں ڈالا ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بیٹھے کرکٹ شائقین امید کر رہے تھے کہ اس دورے میں یہ خلاس ختم ہو جائے گا۔

  • بابر نے آخری ٹیسٹ سنچری چار سال قبل بنائی تھی۔
  • ویسٹ انڈین بولنگ اٹیک نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
  • پاکستان کے لوئر مڈل آرڈر کو اب بڑا اسکور بنانے کے لیے ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

ویسٹ انڈیز کا زبردست کم بیک

جب ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان میچ پر مکمل گرفت حاصل کر چکا ہے، تب میزبان ٹیم نے جارحانہ بولنگ اور شاندار فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا۔ کوئنز پارک اوول کی پچ پر گیند کی غیر مساوی باؤنس اور معمولی ٹرن نے بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ دن کے آخری اوقات میں جلدی وکٹیں گرنے سے مہمان ٹیم کا ردھم ٹوٹ گیا۔

  • فاسٹ بولرز نے پرانی گیند سے ரிவர்ஸ் سوئنگ کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
  • اسپنرز نے پچ پر موجود نشانات کا استعمال کر کے دباؤ برقرار رکھا۔
  • پاکستانی بولنگ اٹیک کو اب تیسرے دن کے آغاز میں جلد وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ میچ کا براہ راست مزہ لینا چاہتے ہیں تو صبح کے سیشنز کے لیے اپنے الارم سیٹ کر لیں۔ پاکستانی اسپورٹس چینلز اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ ایپس پر میچ کی لائیو نشریات جاری ہیں۔ اگر آپ دفتر میں ہیں تو مقامی اسپورٹس ویب سائٹس پر سیشن کی اپ ڈیٹس دیکھتے رہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

کل صبح کے پہلے سیشن میں پاکستانی بولنگ اٹیک کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں۔ ابتدائی کامیابیوں سے ہی یہ طے ہوگا کہ مہمان ٹیم میچ میں دوبارہ برتری حاصل کر پاتی ہے یا نہیں۔