افغان حکام نے اندرونی کشیدگی، تنازعات اور مزدوروں کے شدید احتجاج کے پیشِ نظر شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں کان کنی کی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔

امارتِ اسلامی کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق کانوں پر قبضے کی شکایات، غیر قانونی کھدائی اور اندرونی تناؤ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ حکومتی قدم بدخشاں کے مختلف اضلاع میں مقامی کان کنوں اور مزدوروں کی جانب سے کیے جانے والے ہنگامہ خیز مظاہروں کے فورا بعد سامنے آیا ہے۔ مزدوروں کا احتجاج بنیادی سہولتوں کے فقدان، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور مقامی کمانڈروں کی جانب سے کانوں پر زبردستی قبضے کے خلاف تھا۔

پاکستان کے لیے علاقائی سیکیورٹی کی اہمیت

بدخشاں کی سرحدیں پاکستان کے شمالی علاقوں اور تاجکستان کے ساتھ ملتی ہیں، اس لیے وہاں کی کسی بھی سیاسی ہلچل کا براہِ راست اثر اسلام آباد کی سیکیورٹی پالیسی پر پڑتا ہے۔ اس صوبے میں قیمتی پتھروں بالخصوص لاجورد، یاقوت اور سونے کے وسیع ذخائر موجود ہیں جو ماضی میں مختلف عسکری گروہوں کی مالی معاونت کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔ جب بھی ان وسائل پر کنٹرول کے لیے اندرونی لڑائی شدت اختیار کرتی ہے، پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے جاتے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اس صورتحال سے کوئی عسکریت پسند فائدہ نہ اٹھا سکے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے اقتدار پر قابض حلقوں کے اندر مختلف دھڑے ان قیمتی کانوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ غیر مجاز عناصر کی جانب سے بغیر اجازت معدنیات نکالنے اور خزانے میں رقوم جمع نہ کرانے کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑی۔

  • غیر قانونی کھدائی کے باعث کانیں بیٹھنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
  • غریب مزدوروں کو کئی کئی ماہ تک طے شدہ اجرت نہیں دی گئی۔
  • مقامی مسلح کمانڈروں کے درمیان جھڑپوں سے عام آبادی بھی متاثر ہوئی۔

معاشی بحران اور مقامی آبادی کی مشکلات

پہاڑی سلسلوں میں واقع ان کانوں پر مزدوری کرنے والے ہزاروں غریب افراد کے لیے کام کی اچانک معطلی شدید معاشی بحران لے کر آئی ہے۔ جو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور سخت سردی میں اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتے تھے، وہ اب بیروزگاری کا شکار ہو چکے ہیں۔ کان کنی رکنے سے خام مال کی ترسیل کا سلسلہ بھی بند ہو گیا ہے جس سے مقامی تاجروں کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نظم و نسق بحال کرنے کے لیے ضروری تھا، مگر اس کا فوری خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بارڈر ٹریڈنگ پوائنٹس کے قریب کاروبار کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

آپ کو اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کا کاروبار بارڈر پار تجارت، پتھروں کی درآمد یا شمالی افغانستان سے جڑے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہے، تو آپ کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

  • بدخشاں کے معدنیاتی ذرائع سے وابستہ کسی بھی نئی سرمایہ کاری یا ایڈوانس ادائیگی سے گریز کریں۔
  • اپنے سپلائی روٹس کو متنوع بنائیں تاکہ تمام انحصار صرف افغانستان کے شمالی علاقوں پر نہ ہو۔
  • سرحدی گزرگاہوں پر کسٹم حکام اور ایجنٹوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ نئی پابندیوں کا بروقت علم ہو سکے۔

آگے کیا ہونے کی توقع ہے

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا کابل انتظامیہ ناراض مقامی کمانڈروں کے ساتھ کوئی مستقل سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، کیونکہ اس تنازع کے طول پکڑنے سے شمالی علاقوں میں مسلح بغاوت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تجزیہ کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا کان کنی پر پابندی کا یہ دائرہ کار تخار یا نورستان تک پھیلتا ہے یا نہیں۔