خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے کا جنریشن ٹیرف چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے سوکی کناری منصوبے کے مقابلے میں تقریباً 28 فیصد کم ہے۔ ملک بھر میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور کیپیسٹی پیمنٹس کے بوجھ تلے دبے عام پاکستانی کے لیے یہ خبر کسی ریلیف کی امید جگاتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ایک نئے منصوبے کا سستا ٹیرف واقعی آپ کے گھر آنے والے ماہانہ بجلی کے بل میں کمی کا باعث بنے گا؟ آئیے اس معاملے کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں۔
سوکی کناری اور دیگر پرانے یا غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبے مہنگے قرضوں اور اونچے رسک پریمیم پر بنائے گئے تھے۔ اس کے برعکس، بالاکوٹ جیسے صوبائی اور ترقیاتی اداروں کے تعاون سے بننے والے منصوبے نسبتاً کم لاگت کے حامل ہیں۔ جب کوئی پاور پلانٹ کم لاگت سے تیار ہوتا ہے تو نیپرا کی طرف سے اس کا فی کلو واٹ آور ٹیرف بھی کم طے پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بالاکوٹ کا ہندسہ کاغذ پر متاثر کن دکھائی دیتا ہے۔
کل آپ کا بجلی کا بل کم کیوں نہیں ہوگا؟
اس سے پہلے کہ آپ سستی بجلی کی خوشی میں اپنے بجلی کے بل کو بھول جائیں، پاکستان کے توانائی کے شعبے کی ساختیاتی خرابیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی ایک نئے پن بجلی منصوبے کا ٹیرف سستا ہونے سے پورے قومی گرڈ میں گردش کرنے والی بجلی کی اوسط قیمت रातों-रात کم نہیں ہو جاتی۔ ہم پرانے آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ان معاہدوں میں جکڑے ہوئے ہیں جن کے تحت پلانٹس بند رہیں تب بھی انہیں بھاری فکسڈ چارجز (کیپیسٹی پیمنٹس) ادا کرنا پڑتے ہیں۔
آپ کے بل میں درج ذیل عناصر شامل ہوتے ہیں:
- کیپیسٹی چارجز: بجلی استعمال نہ ہونے کی صورت میں بھی پلانٹس کو کی جانے والی ادائیگیاں۔
- گردشی قرضہ: اربوں روپے کا وہ خسارہ جو بجلی کی بچت اور کارکردگی کے فوائد کو نگل جاتا ہے۔
- ٹیکسز اور سرچارجز: جی ایس ٹی، ٹی وی فیس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر کٹوتیاں جو بل کا نصف حصہ بناتی ہیں۔
نیپرا ملک بھر کے تمام پاور پلانٹس کے اخراجات کو ملا کر ایک یکساں قومی ٹیرف بناتا ہے۔ ایک سستا منصوبہ سمندر میں قطرے کی مانند ہے، جس کا اثر مجموعی بل پر بہت کم ہوتا ہے۔
آپ کے گھریلو بجٹ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
اگر آپ لاہور، کراچی، راولپنڈی یا پشاور میں رہتے ہیں تو آپ کی روزمرہ مالی مشکلات میں فی الحال کوئی بڑی کمی متوقع نہیں۔ پچھلے چند سالوں میں بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ بالاکوٹ کا سستا ٹیرف یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ اگر مقامی منصوبے صحیح طریقے سے چلائے جائیں تو سستی بجلی بن سکتی ہے۔ تاہم، عام آدمی کو اس کا براہ راست فائدہ اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک وفاقی حکومت پرانے معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کرتی۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
سستی پن بجلی کی خبریں سن کر سولر پینل لگوانے کا ارادہ ترک نہ کریں۔ سرکاری ضابطوں اور پالیسیوں میں تبدیلیوں کے باوجود سولر نیٹ میٹرنگ اب بھی آپ کے گھریلو بجٹ کو آسمان سے باتیں کرتے بجلی کے بلوں سے بچانے کا واحد موثر ذریعہ ہے۔ اپنے گھر یا کاروبار میں بجلی کی کھپت کو محدود کریں اور پیک آورز کے دوران بھاری آلات چلانے سے گریز کریں۔ نیپرا کی پبلک ہیرنگز پر نظر رکھیں جہاں صارفین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
بالاکوٹ منصوبے کی تکمیل کی اصل تاریخ اور اس کی قومی گرڈ میں شمولیت کے عمل پر نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا خیبر پختونخوا حکومت روایتی وفاقی نظام سے ہٹ کر براہ راست بجلی فروخت کرنے کے معاہدے کامیابی سے کر پاتی ہے یا نہیں۔ یہی چیز طے کرے گی کہ مستقبل کے صوبائی منصوبے عام آدمی کے بجٹ کے لیے کتنے سودمند ثابت ہوں گے۔
