بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکن عمر کریم نے حال ہی میں پاکستان کے کشمیر بیانیے پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست اس مسئلے کا استعمال اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کرتی ہے۔
کشمیر پالیسی پر تنقیدی موقف
7 اگست 2026 کو دیے گئے ایک بیان میں عمر کریم نے دلیل دی کہ بین الاقوامی فورمز پر اسلام آباد کی جانب سے کشمیر پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنا ایک حکمت عملی کے تحت کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت اس علاقائی تنازع کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سیاسی بے چینی سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریاست اپنی سفارتی توانائیاں اپنے شہریوں کو درپیش معاشی اور سکیورٹی بحرانوں کے بجائے بیرونی علاقائی تنازعات پر خرچ کر رہی ہے۔
میڈیا سنسرشپ کے الزامات
سفارتی تنقید کے ساتھ ساتھ، کریم نے ملک میں معلومات کے بہاؤ پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان میں میڈیا سنسرشپ اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ مرکزی دھارے کے چینلز کو بلوچستان سے متعلق مسائل یا اختلاف رائے رکھنے والی آوازوں کو دکھانے سے روکا جاتا ہے۔
- کارکن نے نوٹ کیا کہ آزاد صحافیوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
- انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنقید کو دبانے کے لیے ڈیجیٹل جگہوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
- انہوں نے زور دیا کہ شفاف رپورٹنگ کا فقدان عوام کو صوبے میں جاری بحران کی شدت کو سمجھنے سے روک رہا ہے۔
قارئین کے لیے اہم معلومات
عام پاکستانی کے لیے، یہ پیش رفت سرکاری بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ کشمیر کا مسئلہ قومی شناخت اور خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد رہا ہے، لیکن عمر کریم جیسے کارکنوں کا موقف ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت داخلی احتساب اور شہری آزادیوں کو ترجیح دے۔
آگے کیا توقع کی جائے؟
اب تک، وزارت اطلاعات یا دفتر خارجہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مبصرین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ تنقید بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں میں پذیرائی حاصل کرتی ہے یا اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل گفتگو پر مزید پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ خارجہ پالیسی کے ایجنڈے اور داخلی سنسرشپ کا یہ ملاپ آئندہ پارلیمانی مباحثوں میں ایک اہم موضوع رہے گا، خاص طور پر جب حکومت قومی سلامتی کی پالیسیوں کے سہ ماہی جائزے کی تیاری کر رہی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات پر حکومت کے سرکاری موقف کے بارے میں جاننے کے لیے، آپ وزارت خارجہ کے پورٹل mofa.gov.pk پر جا کر علاقائی تنازعات پر تازہ ترین بیانات دیکھ سکتے ہیں۔
