پاکستانی فوج نے 12 اگست کو بلوچستان کے سورو میں فضائی حملے کیے جن میں کم از کم آٹھ عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، ہلاک ہو گئے۔ مقامی رہنماؤں اور گواہوں کے مطابق یہ حملے شہری علاقوں، ایک اسکول اور ہسپتال پرTarget کیے گئے۔
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے رہنما میر یار بلوچ نے 13 اگست کو اعلان کیا کہ بلوچ برادری دنیا بھر میں پاکستان کے یوم آزادی (14 اگست) کو سیاہ دن کے طور پر منائے گی۔ میر یار بلوچ نے جلاوطنی سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا، "زندگی بچانے کا راستہ مزاحمت میں ہے۔ ہم اس دن کو منانے نہیں دیں گے جو ہمارے ظلم کا آغاز تھا۔"
یہ فضائی حملے 11 اگست کو اسی ضلعے میں فوجی قافلے پر ایک مسلح حملے کے بعد ہوئے جس میں چھ سپاہی ہلاک ہو گئے تھے۔ فوج کے بین السروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے آپریشن کی تصدیق کی ہے لیکن شہری ہلاکتوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ تاہم مقامی صحافیوں اور کارکنوں نے بتایا کہ 12 اگست کے حملے غیر انتخابی تھے اور انہوں نے سورو کے منڈ علاقے میں رہائشی علاقوں اور ایک سرکاری اسکول پر حملہ کیا۔
سورو میں کیا ہوا؟
- 11 اگست: سورو، بلوچستان میں فوجی قافلے پر مسلح حملے میں چھ پاکستانی سپاہی ہلاک ہو گئے۔
- 12 اگست: پاکستانی فوج نے سورو میں فضائی حملے کیے، جن کا دعویٰ کیا گیا کہ یہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامیوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایک اسکول اور ہسپتال کو نقصان پہنچا اور آٹھ عام شہری، جن میں بچے بھی شامل تھے، ہلاک ہو گئے۔
- 13 اگست: بلوچ رہنماؤں، جن میں میر یار بلوچ بھی شامل ہیں، نے 14 اگست کو سیاہ دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔
سورو کے رہائشیوں نے نیا پاکستان کو بتایا کہ فضائی حملوں سے widespread panic پھیلی اور خاندان اپنے گھروں سے فرار ہو گئے۔ ایک مقامی دکان دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہم نے اوپر طیارے سنا، پھر دھماکے۔ ہمارے بچے اب بھی ڈرے ہوئے ہیں۔"
کیوں 14 اگست؟
پاکستان 14 اگست کو یوم آزادی مناتا ہے جو 1947 میں ملک کی تشکیل کی یاد میں ہے۔ تاہم بلوچ رہنماؤں کے لیے یہ دن ظلم کی صدی کی شروعات سمجھا جاتا ہے، جس میں جبری غائبیاں، عدالتی قتل اور بلوچستان میں فوجی کریک ڈاؤن شامل ہیں۔
سوئیزرلینڈ سے بولتے ہوئے میر یار بلوچ نے کہا کہ سیاہ دن کے احتجاج میں کوئٹہ، کراچی اور بیرون ملکondon اور جینیوا جیسے شہروں میں مظاہرے شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "ہم بلوچستان میں فوجی آپریشنز پر فوری روک اور سورو فضائی حملوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
حکومت کا رد عمل
پاکستان کے خارجہ دفتر نے فضائی حملوں یا سیاہ دن کے اعلان پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم فوجی ترجمان میجر جنرل احمد شریف نے 13 اگست کو کہا کہ بلوچستان میں آپریشنز جاری رہیں گے جب تک کہ "دہشت گردی کا خاتمہ" نہ ہو جائے۔
بلوچستان کی حکومت، جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کر رہے ہیں، نے شہری ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن صوبے میں عدم استحکام کے لیے "غیر ملکی عناصر" کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔
اگلا کیا ہے؟
- 14 اگست: بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں قومی سطح پر مظاہرے، جبکہ بلوچ ڈائیاسپورا یورپ اور شمالی امریکہ میں مظاہرے منظم کر رہا ہے۔
- 15 اگست: توقع ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی حمایت میں قوم پرست گروپوں کی طرف سے جوابی مظاہرے ہوں گے۔
- بین الاقوامی رد عمل: انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ شامل ہیں، نے سورو فضائی حملوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ بلوچستان میں ہیں یا وہاں سفر کا ارادہ رکھتے ہیں:
- 14 اگست کو بڑے اجتماعات سے پرہیز کریں، خاص طور پر کوئٹہ، گوادر اور سورو میں۔
- مقامی صحافیوں اور شہری سوسائٹی کے گروپوں سے اپ ڈیٹس حاصل کرتے رہیں، کیونکہ اس طرح کے واقعات کے دوران انٹرنیٹ سروسز منقطع ہو سکتی ہیں۔
- اگر آپ کے خاندان کا کوئی رکن وہاں موجود ہے تو ان کی سلامتی کا جائزہ لیں اور انہیں گھر کے اندر رہنے کی ترغیب دیں۔
اگر آپ بلوچستان سے باہر ہیں:
- مظاہروں اور ممکنہ خلل پر اپ ڈیٹس کے لیے قابل اعتماد خبری ذرائع پر نظر رکھیں۔
- اس طرح کے واقعات کے دوران غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، لہذا غیر تصدیق شدہ ویڈیوز یا دعووں کو شیئر نہ کریں۔
کیا دیکھنا ہے
- فوجی آپریشنز: کیا فوجی 11 اگست کے مسلح حملے کے جواب میں فضائی حملوں کو مزید تیز کریں گے؟
- انٹرنیٹ بندش: بلوچستان میں گذشتہ احتجاجات کے دوران انٹرنیٹ بندشیں ہوئیں ہیں؛ توقع ہے کہ ممکنہ خلل ہو سکتا ہے۔
- بین الاقوامی دباؤ: کیا غیر ملکی حکومتوں یا انسانی حقوق کے اداروں کا کوئی مداخلت ہوگی، یا یہ ایک گھریلو مسئلہ رہے گا؟
- معاشی اثر: بلوچستان کی پہلے سے کمزور معیشت کو مزید نقصان ہو سکتا ہے اگر مظاہرے تجارتی راستوں یا گوادر بندرگاہ کے آپریشنز کو متاثر کریں۔
سورو فضائی حملے اور سیاہ دن کے اعلان سے بلوچستان میں گہرا ہوتا بحران سامنے آتا ہے جہاں دہائیوں کے تنازعے نے عام شہریوں کو مسلح گروہوں، فوج اور ایک ایسے حکومت کے درمیان پھنسا رکھا ہے جو کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ بہت سے بلوچوں کے لیے 14 اگست اب جشن کا دن نہیں بلکہ ناانصافیوں اور خودمختاری کے مطالبات کی یاد ہے۔
