بلوچ پیپلز کانگریس (BPC) نے باضابطہ طور پر پاکستانی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کو ہوا دینے کے لیے ہتھیار اور عسکری سازوسامان فراہم کر رہی ہے۔ اس سنگین الزام کے بعد تنظیم نے عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

7 اگست 2026 کو پیرس، فرانس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں، BPC اور اس کے اتحادی بلوچ، پشتون اور سندھی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ ہتھیاروں کی سوڈان منتقلی وہاں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

پاکستان آرمز ایکسپورٹس پر سوالات

اتحادی گروپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی پاکستان آرمز ایکسپورٹس خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عسکری سازوسامان فراہم کر کے ریاست ایک ایسی جنگ میں فریق بن رہی ہے جس نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔

  • الزام: BPC کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوج سوڈان میں لڑنے والے گروہوں کو لاجسٹک اور مادی مدد فراہم کر رہی ہے۔
  • مطالبہ: تنظیم نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
  • اتحاد: یہ احتجاج یورپ میں موجود مختلف بلوچ، پشتون اور سندھی کارکنوں کے ایک وسیع اتحاد کی حمایت سے کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے مضمرات

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز پر انحصار کر رہا ہے، یہ الزامات سفارتی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر عالمی ادارے یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ مقامی دفاعی پیداواری ادارے بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، تو ملک کو پابندیوں یا اہم تجارتی تعلقات کے خاتمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عوام کے لیے یہ خبر اس لحاظ سے اہم ہے کہ کسی بھی قسم کی عالمی تنہائی یا مغربی عطیہ دہندگان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی براہ راست روپے کی قدر اور زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

ابھی تک وزارت خارجہ یا آئی ایس پی آر کی جانب سے BPC کے ان الزامات پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ آپ کو سرکاری پریس بریفنگز پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دفاعی برآمدات کے پروٹوکولز کے بارے میں حکومت کا کیا مؤقف ہے۔ اگر اقوام متحدہ اس معاملے کا نوٹس لیتی ہے تو یہ پاکستان کی دفاعی پالیسی اور برآمدات کے عمل میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔