بلوچ يکجہتي کميټي (بي وائي سي) نے بلوچستان کے علاقے شادي کور ميں سيکيورٹي فورسز کی کارروائيوں کے دوران زبردستي گمشدگيوں اور رہائشيوں کی جبری بے دخليوں کے خلاف شديد تشويش کا اظہار کيا ہے۔ حقوق انسانی کی اس تنظيم کی طرف سے جاری کردہ بيان کے مطابق، 27 اگست 2025 کو ہونے والے ان عمليات ميں متعدد افراد کو حراست ميں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کيا گيا ہے۔
شادي کور اور ديگر مضافاتی علاقوں ميں جبری بے دخليوں کے واقعات نے صوبے کے سنگين سياست اور انسانی حقوق کے بحران کو ايک بار پھر اجاگر کر ديا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ سيکيورٹي اپريشنز کے دوران عام شہريوں کو پوريوں سزاؤں اور قانوني تقاضوں کے بغير نشانہ بنایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف خاندانوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ خوف کا ماحول بھی پيدا ہو رہا ہے۔
شادي کور عمليات پر شديد تحفظات
شادي کور کے حالیہ واقعات پر ملک بھر کی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظيموں نے آواز اٹھائي ہے۔ بي وائي سي کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بغير کسي مجرمانہ الزام يا عدالت ميں پيش کیے افراد کو حراست ميں رکھنے کا کوئی اختيار نہيں۔ گمشدہ افراد کا مسئلہ طویل عرصے سے بلوچستان کا ايک بڑا زخم بنا ہوا ہے، جس کے خلاف کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں ميں لواحقین اکثر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
انصاف اور احتساب کا مطالبہ
حقوق انسانی کے کارکنان کا مطالبہ ہے کہ شادي کور ميں بلاجواز حراستوں اور بے دخليوں کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔ تنظيم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کریں۔ اس کے علاوہ، متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اور انہیں تحفظ فراہم کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
موجودہ صورتحال کے پیش نظر، مقامی حقوق کی تنظیمیں بلوچستان بھر میں پرامن احتجاجی مظاہروں اور آگاہی مہمات کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومتی ادارے ان الزامات کا کوئی باضابطہ جواب دیتے ہیں یا صوبے میں سیکیورٹی کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔
