گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کی، جو مصنوعی ذہانت کے عالمی منظرنامے میں ملک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ 2026 کا مقصد
اس سمٹ میں دنیا بھر کے رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس بات پر غور کیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت (AI) کو تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، گورنر مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ 2026 کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک میں ڈیجیٹل تفریق کو کم کرنا ہے۔ بلوچستان جیسے صوبے کے لیے، جہاں انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے، یہ سمٹ نئے مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
اس دورے کے دوران گورنر نے عالمی ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح اے آئی ٹولز کو تعلیمی نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
- دور دراز علاقوں کے طلبا کے لیے اے آئی پر مبنی تعلیمی پلیٹ فارمز کا قیام۔
- مقامی ٹیلنٹ کو عالمی آئی ٹی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا۔
- نوجوانوں کے لیے اے آئی کے محفوظ استعمال کے اصول وضع کرنا۔
گورنر مندوخیل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، اور اگر انہیں بروقت جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے تو وہ ملکی معیشت میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آئندہ کے اقدامات
سمٹ کے بعد اب صوبائی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اے آئی سے متعلقہ ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز کا جائزہ لے گی۔ اگرچہ ابھی تک کسی خاص بجٹ کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن ماہرین اسے ٹیکنالوجی کے شعبے میں نجی اور سرکاری شراکت داری کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
آپ کو بلوچستان حکومت کی آفیشل ویب سائٹ پر ان پروگرامز سے متعلق اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ عالمی سطح پر ہونے والی بات چیت کس طرح عملی اقدامات میں بدلتی ہے اور طلبا کو اس سے کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔
