بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو قلات سے کوئٹہ واپسی کے دوران مسلح افراد کے حملے میں بال بال बच گئے جبکہ فائرنگ کے اس واقعے میں پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ یہ پرتشدد واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیر داخلہ کا قافلہ قومی شاہراہ کے ذریعے صوبائی دارالحکومت کی طرف سفر کر رہا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔

کوئٹہ قلات شاہراہ پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی گاڑی پر ہونے والا یہ حملہ صوبے میں اہم شخصیات کو درپیش سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ نامعلوم مسلح ملزمان نے سرکاری گاڑی پر براہ راست فائرنگ کی، جس کے جواب میں سکیورٹی اسکواٹ نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ وزیر داخلہ تو اس حملے میں محفوظ رہے لیکن شدید فائرنگ کے تبادلے میں پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے فوری طور پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس اور سرکاری ردعمل

واقعے کے فوراً بعد کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی اور صوبے میں امن عامہ کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے بزدلانہ ہتھکنڈے حکومت کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ تفتیشی ٹیمیں قلات کوئٹہ روٹ پر واقعے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے。

سکیورٹی کی صورتحال اور انتظامی اقدامات

وزیر داخلہ کے قافلے پر حملے کے بعد کوئٹہ اورگردونواح میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ اہم شاہراہوں پر پولیس اور فرنٹیئر کور کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ مشکوک گاڑیوں کی کڑی تلاشی لی جا سکے۔ قلات اور کوئٹہ کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوران سفر سکیورٹی اداروں سے تعاون کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

تحقیقات کا اگلا مرحلہ

قانون نافذ کرنے والا ادارے انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں اس فائرنگ کے واقعے کے پیچھے کارفرما نیٹ ورک کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے جلد اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔ عام شہریوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔