بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے بتایا ہے کہ 14 اگست 2026 کو مستونگ میں ان کے قافلے پر مسلح حملہ آوروں نے سنائپر رائفل سے فائرنگ کی۔ وزیر نے کہا کہ حملہ کے وقت وہ تقریباً 11:30 بجے مستونگ شہر کے قریب اپنے محفوظ قافلے میں سفر کر رہے تھے۔

وزیر نے بتایا، "انھوں نے دور سے سنائپر سے فائرنگ کی۔ میری گاڑی پر چھ گولیاں لگیں لیکن میں محفوظ رہا۔" انھوں نے حملہ آوروں کی تعداد یا ان کی وابستگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

وزیر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔ اب تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

چھ گولیاں وزیر کی بکتر بند گاڑی پر لگیں لیکن وہ زخمی نہیں ہوئے۔ مستونگ، جو بلوچستان کے ضلع کالat ڈویژن میں واقع ہے، میں حالیہ مہینوں میں بار بار مسلح حملوں کا سامنا رہا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے شامل ہیں۔

مقامی حکام نے بتایا کہ قافلہ ایک اعلی خطرے والے علاقے سے گذر رہا تھا جب فائرنگ شروع ہو گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کا جواب دیا اور حملہ آوروں کا پیچھا کیا، لیکن وہ فرار ہو گئے۔

وزیر داخلہ، جو ہوم اینڈ قبائلی امور کے وزیر بھی ہیں، نے کہا کہ حکومت وزیر اور عہدے داروں کی موبل سکیورٹی کے لیے پروٹوکول کا جائزہ لے رہی ہے۔ انھوں نے کہا، "ہم عوامی نمائندوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔"

یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب بلوچستان میں علیحدگی پسند گروپوں اور مسلح دھڑوں نے سکیورٹی فورسز اور بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ مستونگ ضلع خاص طور پر ایسے تشدد کا مرکز رہا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنائپر کا استعمال حملہ آوروں کی منصوبہ بندی اور مہارت کی نشاندہی کرتا ہے۔ کوئٹہ میں مقیم ایک ریٹائرڈ پولیس افسر نے کہا، "یہ کوئی случайی کارروائی نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آوروں کو پہلے سے معلومات تھی اور وہ کسی اعلیٰ پروفائل ہدف کے لیے تیار تھے۔"

بلوچستان حکومت نے ابھی تک حملہ آوروں کے فرار کے راستے یا اس واقعے سے متعلق کسی گرفتاری کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

حملے کے دوران کیا ہوا؟

  • حملہ 14 اگست 2026 کو تقریباً 11:30 بجے مستونگ شہر کے قریب ہوا۔
  • مسلح حملہ آوروں نے وزیر کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے سنائپر رائفل کا استعمال کیا۔
  • وزیر کی بکتر بند گاڑی پر چھ گولیاں لگیں لیکن وہ محفوظ رہے۔
  • سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کا جواب دیا اور حملہ آوروں کا پیچھا کیا، جو فرار ہو گئے۔
  • اب تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

بلوچستان میں سکیورٹی خدشات

بلوچستان کا ضلع مستونگ، جو ضلع کالat ڈویژن میں واقع ہے، میں حالیہ مہینوں میں بار بار مسلح تشدد کا سامنا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر کئی حملے ہو چکے ہیں، جن میں بم دھماکے اور فائرنگ شامل ہیں۔

تشدد میں اضافے نے صوبے میں دہشت گردی مخالف اقدامات کی تاثیر کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سنائپر کے استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ مسلح گروپوں نے اپنی حربی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔

اب کیا ہوگا؟

  • بلوچستان حکومت وزیر اور عہدے داروں کی موبل سکیورٹی کے لیے پروٹوکول کا جائزہ لے رہی ہے۔
  • سکیورٹی فورسز اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔
  • اب تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور حملہ آوروں کی شناخت ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

اگر آپ کو اس حملے یا حملہ آوروں کے بارے میں کوئی معلومات ہو تو آپ مستونگ ڈسٹرکٹ پولیس آفس یا بلوچستان کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

  • مستونگ اور بلوچستان کے دیگر اعلی خطرے والے علاقوں میں غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں جب تک مزید ہدایات نہ دی جائیں۔
  • مقامی سکیورٹی advisories پر نظر رکھیں اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
  • کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع قریب ترین پولیس اسٹیشن یا سکیورٹی چیک پوسٹ پر دیں۔

یہ ایک تازہ ترین خبر ہے۔ ہم اس رپورٹ کو مزید معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔