قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بلوچستان کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کو بطور ہتھیار استعمال کریں۔ جمعرات 22 مئی 2025 کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مستقبل مکمل طور پر نئی نسل کی جدید ٹیکنالوجی میں مہارت پر منحصر ہے۔

بلوچستان میں اے آئی کی اہمیت

بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنانے کا مطالبہ صوبے میں ڈیجیٹل شمولیت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اے آئی میں مہارت حاصل کر کے، طلباء اور نوجوان پیشہ ور افراد روایتی رکاوٹوں کو عبور کر کے عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں اور اپنے شہروں میں بیٹھ کر بین الاقوامی سطح پر کام کر سکتے ہیں۔

  • مہارت سازی: مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور مشین لرننگ پر توجہ مرکوز کرنا۔
  • تحقیقی رجحان: تعلیمی اداروں کو اپنے نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت۔
  • مسلسل سیکھنا: روایتی ڈگریوں سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی پر مبنی مہارتوں کا حصول۔

ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنا

سردار ایاز صادق نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تعلیمی نظام کو فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روایتی کیریئر کے راستوں پر انحصار کرنا اب کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اور مسلسل سیکھنے کا عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے صوبے کی افرادی قوت پاکستان کی معاشی استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

اے آئی سیکھنے کا آغاز کیسے کریں؟

اگر آپ بلوچستان میں طالب علم ہیں یا پروفیشنل ہیں، تو مصنوعی ذہانت میں کیریئر بنانے کا آغاز آپ خود کر سکتے ہیں۔ آپ کو حکومتی اصلاحات کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود مفت پلیٹ فارمز جیسے کہ کورسیرا اور دیگر ویب سائٹس پر اے آئی کے ابتدائی کورسز دستیاب ہیں۔

اپنی مہارت بڑھانے کے لیے ان شعبوں پر توجہ دیں:
1. پائتھون پروگرامنگ: اے آئی ڈویلپمنٹ کے لیے بنیادی زبان۔
2. مشین لرننگ کی بنیادی باتیں: یہ سمجھنا کہ ڈیٹا سے کیسے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔
3. پرامپٹ انجینئرنگ: اے آئی ٹولز کے ساتھ موثر گفتگو کا طریقہ سیکھنا۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

قومی اسمبلی کی جانب سے یہ مطالبہ ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم اس کا اصل فائدہ تب ہوگا جب انفراسٹرکچر پر کام شروع ہوگا۔ آپ کو کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے حکومتی گرانٹس یا ایچ ای سی (HEC) کی جانب سے خصوصی تربیتی مراکز کے اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ جیسے جیسے حکومت ڈیجیٹل انضمام کی طرف بڑھے گی، طلباء کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ پر اسکالرشپ پروگرامز کے لیے باقاعدگی سے اپ ڈیٹس دیکھتے رہنا چاہیے۔