وفاقی دارالحکومت اور پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے 14 اگست کے جشنِ آزادی سے قبل باجوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام نے عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے اور شور کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ان کھلونوں کی خرید و فروخت اور استعمال پر سختی سے روک لگا دی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں باجوں پر پابندی کی وجوہات

وفاقی دارالحکومت میں باجوں پر پابندی کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ قومی تہوار کے موقع پر پرامن ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے دکانداروں اور سڑک کنارے سامان بیچنے والوں کو واضح تنبیہ کی ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف سامان ضبط کر لیا جائے گا بلکہ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

گزشتہ برسوں میں، تیز آواز والے پلاسٹک کے ہارن عوامی پریشانی کا باعث بنتے رہے ہیں، جس سے ٹریفک کے مسائل اور شہریوں کی جانب سے شکایات میں اضافہ ہوا تھا۔ انتظامیہ کا مقصد ان پابندیوں کے ذریعے جشن کے دوران غیر ذمہ دارانہ رویوں کو روکنا ہے۔

تاجروں اور شہریوں پر اثرات

چھوٹے دکانداروں کے لیے یہ پابندی مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ 14 اگست کی مناسبت سے انہوں نے بڑی تعداد میں یہ سامان خریدا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جشنِ آزادی کے لیے جھنڈیوں اور دیگر روایتی اشیاء کا استعمال کریں اور شور پیدا کرنے والے آلات سے گریز کریں۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں اسلام آباد کے اہم تجارتی مراکز جیسے بلیو ایریا، ایف-6 اور ایف-7 کے ساتھ ساتھ پشاور کی مصروف مارکیٹوں میں پولیس کی گشت میں اضافہ متوقع ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پابندی پر ہر صورت عمل درآمد کروائیں۔ اگر آپ کو کہیں ان ممنوعہ اشیاء کی فروخت نظر آئے تو آپ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ یہ کریک ڈاؤن 14 اگست کے جشن کے اختتام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔