بینک الفلاح نے اپنے روپیہ کرنٹ پلس اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے انشورنس کوریج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صارفین کو بغیر کسی اضافی چارجز کے 3 ملین روپے تک کا مالی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
ملک کے بڑے تجارتی بینکوں میں شمار ہونے والے اس ادارے نے الفلاح انشورنس کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ روزمرہ کے ریٹیل اکاؤنٹس کے ساتھ حادثاتی موت اور مستقل معذوری کا تحفظ بھی منسلک کیا جا سکے۔ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے اس دور میں عام پاکستانی کے لیے اپنے بنیادی بینک اکاؤنٹ کے ساتھ اس قسم کا مالی سہارا ایک اہم پیش رفت ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ یہ نئی پالیسی کیسے کام کرتی ہے، اس کے لیے کون اہل ہے اور بینک میں رقم جمع کرانے سے پہلے آپ کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
بینک الفلاح کے نئے انشورنس پیکیج میں کیا شامل ہے؟
یہ پالیسی خاص طور پر غیر متوقع حادثات کے وقت خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے بنائی گئی ہے۔ اگر کسی اہل اکاؤنٹ ہولڈر کو حادثہ پیش آتا ہے یا مستقل معذوری لاحق ہوتی ہے، تو اکاؤنٹ میں موجود اوسط بیلنس کی بنیاد پر بیمہ کوریج کی رقم 3 ملین روپے تک جا سکتی ہے۔
پاکستان کے تجارتی بینک اب اپنے صارفین کو راغب کرنے کے لیے روایتی خدمات کے ساتھ ساتھ مختلف لائف اسٹائل اور سیکیورٹی فوائد بھی دے رہے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹس پر عام طور پر کوئی منافع یا اضافی سہولت نہیں ملتی، لیکن اس اقدام سے بنیادی لین دین والے اکاؤنٹ کو ایک کارآمد حفاظتی کور مل گیا ہے۔
- حادثاتی موت کی صورت میں 3 ملین روپے تک کا کلیم
- مستقل اور مکمل معذوری کا مالی تحفظ
- کرنٹ پلس اکاؤنٹ کی فعال حالت سے خودکار وابستگی
- الفلاح انشورنس کمپنی کے اشتراک سے فراہمی
اس بیمہ پلان کے لیے اہلیت کا معیار کیا ہے؟
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو کسی طویل طبی معائنے یا الگ سے فارম بھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سہولت ان تمام انفرادی اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے دستیاب ہے جو بینک کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم ڈپازٹ کی حد کو پورا کرتے ہیں۔
اکاؤنٹ کا بیلنس برقرار رکھنا اس عمل کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اگر مہینے کے دوران آپ کا اوسط بیلنس مقررہ حد سے کم ہوجاتا ہے، تو آپ اس ماہ کے لیے کوریج کے اہل نہیں رہیں گے۔ بینک کا مقصد اس حکمت عملی کے ذریعے اپنے ریٹیل ڈپازٹس کو محفوظ بنانا ہے ایسے وقت میں جب مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کا دباؤ برقرار ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کا پہلے سے بینک الفلاح میں کرنٹ پلس اکاؤنٹ موجود ہے، تو یہ فرض نہ کریں کہ آپ کو خود بخود زیادہ سے زیادہ درجے کی کوریج مل گئی ہے۔ بینک کی ہیلپ لائن پر کال کریں یا اپنی قریبی شاخ میں جا کر شرائط اور اوسط بیلنس کی ضروریات کی تصدیق کریں۔
بینک کے نمائندے سے کلیم کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیل سے پوچھیں اور یہ بھی معلوم کریں کہ آیا اس پالیسی پر کوئی پیشہ ورانہ یا طبی استثناء لاگو ہوتا ہے۔ اگر آپ نیا اکاؤنٹ کھولنے کا سوچ رہے ہیں تو دیگر بینکوں کی پیشکشوں کا موازنہ کرنے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کریں۔
کن باتوں پر نظر رکھنا ضروری ہے؟
اپنے ماہانہ اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹس کا بغور جائزہ لیں تاکہ کسی بھی غیر اععلانیہ کٹوتی یا فیس سے باخبر رہیں۔ بینک اکثر تشہیری مہم کے دوران ایسی اسکیمیں لاتے ہیں لیکن اہداف پورے ہونے کے بعد شرائط میں تبدیلیاں کر دیتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس قسم کی بینکا انشورنس مصنوعات پر گہری نظر رکھتا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر آپ کو اپنے اکاؤنٹ سے بغیر اجازت کے انشورنس پریمیم کی مد میں کوئی کٹوتی نظر آئے تو فوری طور پر بینک کے اندرونی شکایات سیل یا ایس بی پی سے رجوع کریں۔
