بینک آف پنجاب کے صدر اور سی ای او ظفر مسعود نے دلیل دی ہے کہ پاکستان کو ایک welfare gdp pakistan (ویلفیئر جی ڈی پی) کے پیمانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے شہریوں کی اصل معاشی حقیقت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے موجودہ اعداد و شمار، جو حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے استعمال کیے جاتے ہیں، یہ دکھانے میں ناکام ہیں کہ عام پاکستانی موجودہ معاشی بحران سے کس طرح نمٹ رہے ہیں۔
اگرچہ سرکاری اعداد و شمار معاشی استحکام یا ترقی کے کچھ حصے دکھا سکتے ہیں، لیکن مسعود کے مطابق یہ اعداد و شمار اس گرتی ہوئی قوتِ خرید اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کی عکاسی نہیں کرتے جس کا سامنا ایک عام پاکستانی کو کرنا پڑ رہا ہے۔
موجودہ جی ڈی پی آپ کے لیے کیوں ناکام ہے؟
زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو ایک اجنبی تصور کی طرح ہے۔ جب حکومت معاشی پیداوار میں اضافے کا اعلان کرتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کے کھانے پینے یا بجلی کے بلوں میں کمی کی صورت میں نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جی ڈی پی صرف ملک کے اندر پیدا ہونے والی اشیاء اور خدمات کی کل مالیت کو ناپتا ہے، لیکن یہ اس بات کا خیال نہیں رکھتا کہ وہ دولت کن کے پاس جا رہی ہے یا ان اشیاء تک رسائی کی قیمت کیا ہے۔
اگر معیشت میں 3 فیصد اضافہ ہو لیکن آٹے، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہو جائے، تو عام آدمی حقیقت میں پہلے سے زیادہ غریب ہو چکا ہے۔ مسعود کی تجویز اس بنیادی خامی کو اجاگر کرتی ہے: ایک ملک کاغذ پر 'ترقی' کر سکتا ہے جبکہ اس کے عوام غربت کی گہری لکیر میں دھکیلے جا رہے ہوں۔
ویلفیئر جی ڈی پی (Welfare GDP) کا تصور کیا ہے؟
welfare gdp pakistan کے ماڈل کا مقصد خالص پیداوار کے بجائے انسانی بہبود پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا۔ اس روڈ میپ کے تحت صرف یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ معیشت میں کتنے ارب روپے گردش کر رہے ہیں، بلکہ ایسے اشارے بھی شامل کیے جائیں گے جو معیارِ زندگی کی عکاسی کریں۔
ایسے پیمانے میں درج ذیل عوامل شامل ہو سکتے ہیں:
- حقیقی قوتِ خرید: موجودہ مارکیٹ میں ایک ماہانہ تنخواہ سے کتنا سامان خریدا جا سکتا ہے۔
- بنیادی ضرورتوں تک رسائی: صحت، تعلیم اور صاف پانی کی استطاعت۔
- سوشل سیفٹی نیٹ کی کارکردگی: مہنگائی کے دوران حکومتی پروگرام غریبوں کی کتنی مدد کر رہے ہیں۔
- آمدنی کی عدم مساوات: امیر ترین طبقے اور محنت کش طبقے کے درمیان بڑھتا ہوا فرق۔
ترقی اور جیب کے درمیان خلا
مسعود کی بتائی گئی یہ خلیج موجودہ مانیٹری ماحول کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) جب مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرتا ہے، تو اس کا فوری اثر چھوٹے کاروباروں اور متوسط طبقے کے گھرانوں پر پڑتا ہے جو قرضوں پر انحصار کرتے ہیں۔
مزید برآں، پاکستان کی غیر رسمی معیشت (informal economy) کو بھی روایتی جی ڈی پی کے حساب کتاب میں مکمل طور پر نہیں لیا جاتا، جس کی وجہ سے سرکاری اعداد و شمار پہلے ہی ادھورے ہوتے ہیں۔ جب اس میں بجلی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ملا دیا جائے، تو وزارتِ خزانہ کی جانب سے بتائی جانے والی 'ترقی' عام آدمی کے لیے محض ایک ریاضیاتی دھوکہ محسوس ہوتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اپنے گھر کا بجٹ سنبھال رہے ہیں یا کوئی چھوٹا کاروبار چلا رہے ہیں، تو محض جی ڈی پی کی شرح نمو پر بھروسہ نہ کریں۔ اس کے بجائے اپنی حقیقی آمدنی پر توجہ دیں۔
- اپنی اشیاء کی فہرست بنائیں: عمومی مہنگائی کے بجائے ان چیزوں کی قیمتوں پر نظر رکھیں جو آپ روزانہ خریدتے ہیں (مثلاً گندم، تیل، دودھ، بجلی)۔
- بچت کے محفوظ طریقے: روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے پیش نظر، سونے یا ریئل اسٹیٹ جیسے اثاثوں پر غور کریں اگر آپ کا بجٹ اجازت دے۔
- اسٹیٹ بینک کی پالیسی پر نظر رکھیں: شرح سود کے فیصلوں پر نظر رکھیں کیونکہ یہ آپ کے قرضوں کی واپسی اور بچت پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
حکومت کے اگلے بجٹ اور پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی رپورٹس پر نظر رکھیں۔ مسعود کے اس مطالبے کا اصل امتحان تب ہوگا جب حکومت معاشی منصوبہ بندی میں انسانی بہبود سے متعلق اشارے شامل کرنا شروع کرے گی۔
اس کے علاوہ، آئی ایم ایف (IMF) کے مشوروں میں تبدیلیوں پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ اگر بین الاقوامی ادارے بھی مالیاتی استحکام کے ساتھ ساتھ 'انسانی ترقی' کے پیمانےوں پر زور دینے لگیں، تو یہ پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
