بینکوں نے راولپنڈی میں 'سنگل ونڈو فکس فار پی ایم ہاؤسنگ' کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے جو ہزاروں خواہش مندوں کی راہ میں حائل ہیں۔ بینکنگ حکام کی جانب سے جمعرات کو دی گئی اس تجویز کا مقصد راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RDA) میں ایک مرکزی ڈیسک قائم کرنا ہے، جہاں سے آپ اپنے ہاؤسنگ قرض کی دستاویزات کو ایک ہی جگہ جمع کروا سکیں۔

سنگل ونڈو سسٹم کیوں ضروری ہے؟

فی الحال، درخواست دہندگان کو بینک برانچوں، لینڈ ریکارڈ آفس اور آر ڈی اے کے درمیان چکر لگانے پڑتے ہیں جس سے منظوری میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ یہ نئی تجویز آر ڈی اے کے شہری منصوبہ بندی کے ڈیٹا اور بینکوں کے کریڈٹ اسیسمنٹ عمل کو ایک ساتھ جوڑ دے گی، جس سے آپ کا وقت بچے گا اور عمل میں شفافیت آئے گی۔

اہلیت کا معیار کیا ہے؟

اس اسکیم کے تحت فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے آپ کو درج ذیل شرائط پوری کرنی ہوں گی:
- آپ پہلی بار گھر خرید رہے ہوں (آپ کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی گھر نہیں ہونا چاہیے)۔
- جائیداد حکومت کی مقرر کردہ کم قیمت والی ہاؤسنگ کیٹیگری میں آنی چاہیے۔
- آپ کے پاس آمدنی کا مستقل ذریعہ ہونا ضروری ہے، خواہ آپ تنخواہ دار ہوں یا اپنا کاروبار کرتے ہوں۔
- درخواست کے وقت آپ کی عمر عام طور پر 21 سے 60 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔

درخواست دینے کا طریقہ اور ضروری دستاویزات

اگرچہ سنگل ونڈو سسٹم ابھی تجویز کے مرحلے میں ہے، آپ کو اپنی دستاویزات تیار رکھنی چاہئیں:
1. کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) کی کاپی۔
2. آمدنی کا ثبوت (تنخواہ دار افراد کے لیے 3 سے 6 ماہ کی سلپس، کاروباری افراد کے لیے بینک اسٹیٹمنٹ)۔
3. پراپرٹی کے کاغذات (الاٹمنٹ لیٹر، ٹرانسفر ڈیڈ یا منظور شدہ بلڈنگ پلان)۔
4. کریڈٹ ہسٹری (e-CIB رپورٹ)۔

آگے کیا ہوگا؟

یہ تجویز فی الحال متعلقہ حکام کی منظوری کی منتظر ہے۔ اگر یہ کامیاب رہتی ہے تو اسے لاہور اور اسلام آباد جیسے دیگر بڑے شہروں میں بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کی درخواست پہلے سے زیر التوا ہے تو اپنے بینک سے رابطہ رکھیں اور آر ڈی اے کی ویب سائٹ پر نئی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔