پولیس تحقیقات کے مطابق لاہور پولیس کے تین اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے ایک کالعدم عسکریت پسند نیٹ ورک کا ہاتھ ہے، جس نے سکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس ہائی پروفائل قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ اس سازش میں خطرناک عسکریت پسندوں، مقامی سہولت کاروں اور سرحد پار نقل و حرکت کا گہرا گٹھ جوڑ شامل ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں قید عسکریت پسند رؤف گجر نے اس پوری سازش میں مرکزی کردار ادا کیا۔ رؤف گجر نے مبینہ طور پر مقتول حملہ آور فیض بٹ کی رہائی میں سہولت کاری کی اور اس کے بعد اسے افغانستان روانہ کر دیا۔ یہ انکشاف ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ جیلوں کے اندر بیٹھے ہوئے خطرناک دہشت گرد کس طرح سلاخوں کے پیچھے سے اپنے نیٹ ورکس چلا رہے ہیں۔

لاہور پولیس کی تحقیقات اور اہم انکشافات

لاہور پولیس کے تین اہلکاروں کے قتل کے بعد صوبائی دارالحکومت میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور ایک مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں نے تیزی سے ہتھیاروں اور مواصلاتی ذرائع کے ٹریس کے ذریعے اس کالعدم تنظیم کے مقامی سلیپر سیلز کا سراغ لگایا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب لاہور اور گردونواح میں ان تمام سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں جنہوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دی۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے جیل حکام سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں تاکہ ان خامیوں کا سدباب کیا جا سکے جن کی وجہ سے قید کمانڈرز باہر کے دہشت گرد ماڈیولز کو ہدایات جاری کرتے ہیں۔

سرحد پار روابط اور ہینڈلرز کا نیٹ ورک

فیض بٹ کو سہولت کاری کے بعد افغانستان بھیجنے کا عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی کمانڈ پاکستان کی سرحدوں سے باہر موجود ہے۔ انسداد دہشت گردی کے محکموں کے مطابق کالعدم تنظیمیں شہری علاقوں میں بڑے حملے کرنے اور اپنے ہینڈلرز کو بچانے کے لیے اکثر افغان سرزمین استعمال کرتی ہیں۔

  • جیل میں قید عسکریت پسند رؤف گجر کو مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا ہے۔
  • مقتول حملہ آور فیض بٹ کو کارروائی کے بعد افغانستان بھیجا گیا تھا۔
  • لاہور پولیس کے تین جوان اس ٹارگٹڈ حملے میں شہید ہوئے تھے۔
  • پنجاب بھر میں باقی ماندہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ لاہور یا پنجاب کے کسی بھی بڑے شہر میں مقیم ہیں تو انتہائی چوکنا رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی، نامعلوم کرائے داروں یا غیر معمولی نقل و حرکت کی فوری اطلاع پولیس ہیلپ لائن 15 پر دیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی ہے، اس لیے سفر کے دوران تاخیر کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں اور ہمیشہ اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) اپنے ساتھ رکھیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) پنجاب کی جانب سے رؤف گجر کے باقی سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے آنے والی نئی تفصیلات پر نظر رکھیں۔ تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ جیل حکام کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کی جائے گی جن کی غفلت کی وجہ سے ہائی پروفائل قیدیوں نے باہر رابطہ کیا، جبکہ آنے والے دنوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔