ایف بی آر میں fbr enforcement leadership shift کے تحت باسط عباسی نے دو سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد چیف کلکٹر انفورسمنٹ کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ وہ اب نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں ایک تربیتی کورس میں شرکت کریں گے۔
ایف بی آر میں تبدیلیوں کے اثرات
اس اہم تقرری کے بعد جمیل ناصر کو نیا چیف کلکٹر انفورسمنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کی روک تھام ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ کاروباری حلقے اس تقرری کو سمگلنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
- سبکدوش ہونے والے افسر: باسط عباسی
- نئے تعینات ہونے والے افسر: جمیل ناصر
- اہم ادارہ: نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU)
سمگلنگ اور مقامی صنعت پر اثرات
عام پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے کسٹمز کے اعلیٰ حکام کی یہ تبدیلی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ سمگل شدہ اشیاء کی بھرمار سے مقامی ٹیکس دہندہ صنعتوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی انتظامیہ کو سمگلنگ مافیا کے خلاف سخت حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
تاجروں کے لیے ہدایات
اگر آپ درآمدات یا تجارت سے وابستہ ہیں، تو کسٹمز کے نئے فیصلوں اور پالیسیوں پر گہری نظر رکھیں۔ نئی قیادت کے آنے کے بعد بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس پر کلیئرنس کے عمل میں تبدیلی یا سختی کا امکان ہے۔ تمام تاجروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے درآمدی دستاویزات کو مکمل رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی جانچ پڑتال کے دوران مشکلات سے بچ سکیں۔
آئندہ کے لائحہ عمل پر نظر
آنے والے دنوں میں ایف بی آر کی جانب سے سمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری کردہ نئے احکامات کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ جمیل ناصر کی سربراہی میں کسٹمز انفورسمنٹ کی کارکردگی کا اندازہ اگلے چند ہفتوں میں ہونے والی کارروائیوں سے لگایا جا سکے گا۔ تاجروں کو چاہیے کہ وہ کسٹمز کے دفاتر سے جاری ہونے والے تازہ ترین نوٹیفکیشنز کو باقاعدگی سے دیکھتے رہیں۔
