لاہور کی تاریخی بیگم شاہی مسجد کو پانی کے مسلسل رساؤ اور غیر قانونی تجاوزات کے باعث شدید ڈھانچہ جاتی خطرات کا سامنا ہے، جس سے مغل دور کی یہ قدیم نشانی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔
بیگم شاہی مسجد کو درپیش ڈھانچہ جاتی خطرات
دہلی گیٹ کے قریب واقع یہ مسجد، جسے مریم زمانی مسجد بھی کہا جاتا ہے، 17ویں صدی کے فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ تاہم، جدید شہری غفلت اس تاریخی ورثے کو بری طرح نقصان پہنچا رہی ہے۔ بنیادوں اور دیواروں میں پانی کا مسلسل رساؤ تاریخی چونے کے پلاسٹر اور اینٹوں کو کمزور کر رہا ہے، جس سے گنبدوں اور دیواروں پر موجود قدیم نقاشی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
- بنیادی خطرہ: بنیادوں اور دیواروں میں پانی کا شدید رساؤ۔
- ثانوی خطرہ: مسجد کے ارد گرد غیر قانونی تجاوزات۔
- مقام: اندرون شہر، لاہور۔
تجاوزات کے اثرات
وقت کی مار کے ساتھ ساتھ انسانی مداخلت بھی اس مسجد کے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے۔ مسجد کے احاطے کے قریب غیر قانونی کمرشل اسٹالز اور تعمیرات نے اس کے حفاظتی دائرے کو محدود کر دیا ہے۔ یہ تجاوزات نہ صرف مسجد کے تاریخی حسن کو چھپا رہے ہیں بلکہ مرمتی کاموں میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب آس پاس کی تنگ گلیوں میں نکاسی آب کا نظام خراب ہوتا ہے، تو پانی مسجد کی دیواروں میں سرایت کر جاتا ہے، جس سے اس کی تاریخی تزئین و آرائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اندرون شہر کے رہائشی یا سیاح ہیں، تو آپ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (WCLA) کو غیر قانونی تعمیرات کی اطلاع دے کر اپنی قومی ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں۔ عوامی آگاہی ہی حکام پر دباؤ ڈالنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ آپ WCLA کی آفیشل ویب سائٹ wcla.gop.pk پر جا کر تحفظِ ورثہ کے منصوبوں کے بارے میں جان سکتے ہیں اور تجاوزات کے خلاف شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
صوبائی بجٹ اور محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے مختص کردہ فنڈز پر نظر رکھیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسجد کے ڈھانچے کا فوری آڈٹ کرایا جائے۔ اگر اگلی برسات سے قبل پانی کے رساؤ کو نہ روکا گیا، تو اندرونی نقاشی کو پہنچنے والا نقصان ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔ ہم اس بات پر نظر رکھیں گے کہ آیا حکومت تجاوزات کے خلاف کب باقاعدہ آپریشن شروع کرتی ہے۔
