لیزبن اور ہانگ کانگ میں حالیہ فتوحات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اسپورٹس اچیومنٹس (pakistan sports achievements) بالآخر کرکٹ کے سائے سے باہر نکل کر دیگر کھیلوں میں بھی نمایاں ہو رہی ہیں۔ غیر کرکٹ کھیلوں کے لیے ایک شاندار ہفتے میں، پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹینس اور نیٹ بال دونوں میں بڑے بین الاقوامی ٹائٹل اپنے نام کیے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر موقع دیا جائے تو مقامی ٹیلنٹ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہ فتوحات محض چند میچوں کی جیت نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک بھر میں کھیلوں کی فنڈنگ، عوامی سوچ اور کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔
دہائیوں سے، کارپوریٹ اسپانسرز اور سرکاری سرپرستی کا جھکاؤ صرف کرکٹ کی طرف رہا ہے، جس کی وجہ سے دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں کو انتہائی محدود وسائل میں گزارا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ کامیابیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹینس اور نیٹ بال جیسے کھیلوں میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر نام کمانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
حالیہ فتوحات کے اہم نکات
- پرتگال میں ٹینس کی تاریخ: تجربہ کار اسٹار اعصام الحق قریشی نے آسٹریا کی نینا ہرمن کے ساتھ مل کر لزبن میں جاری آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپئن شپ میں مکسڈ ڈبلز کا عالمی ٹائٹل جیت لیا۔
- تمغوں کی بارش: ورلڈ ماسٹرز ٹینس چیمپئن شپ میں پاکستان نے مجموعی طور پر چار تمغے حاصل کیے، جو ٹینس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
- ہانگ کانگ میں نیٹ بال کی فتح: پاکستان کی خواتین نیٹ بال ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشین نیٹ بال چیمپئن شپ 2026 کے پلیٹ ڈویژن کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
- تھائی لینڈ کو شکست: فائنل میں پاکستانی ٹیم نے منظم کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھائی لینڈ کو 50 کے مقابلے میں 55 گول سے شکست دی اور 5 گول کے فرق سے ٹائٹل اپنے نام کیا۔
آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپئن شپ میں اعصام الحق کا شاندار کارنامہ
پرتگال کے شہر لزبن میں پاکستان کے نامور ٹینس اسٹار اعصام الحق قریشی نے اپنے شاندار کیریئر میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ کیا۔ آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ چیمپئن شپ میں حصہ لیتے ہوئے اعصام نے آسٹریا کی نینا ہرمن کے ساتھ جوڑی بنائی۔ دونوں کھلاڑیوں نے کورٹ پر بہترین تال میل اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ کیا اور بالآخر مکسڈ ڈبلز کا عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
یہ فتح پرتگال میں پاکستانی دستے کی مجموعی شاندار کارکردگی کا حصہ تھی، جس نے مجموعی طور پر چار تمغے حاصل کیے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ٹینس کورٹس زیادہ تر لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے نجی کلبوں تک محدود ہیں، یہ کارکردگی ثابت کرتی ہے کہ پاکستانی ٹینس کھلاڑی اب بھی عالمی معیار کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اعصام الحق کی کھیل سے وابستگی کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو طویل کیریئر کے باوجود بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں۔
خواتین نیٹ بال ٹیم نے ایشین چیمپئن شپ جیت لی
دوسری جانب ہانگ کانگ میں پاکستان کی خواتین نیٹ بال ٹیم نے بھی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ایشین نیٹ بال چیمپئن شپ 2026 میں کھیلتے ہوئے گرین شرٹس نے بہترین نظم و ضبط اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پلیٹ ڈویژن کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
تھائی لینڈ کے خلاف فائنل میچ انتہائی سنسنی خیز رہا۔ پاکستانی خواتین نے دباؤ کے باوجود اعصاب پر قابو رکھا اور اپنے دفاعی و جارحانہ کھیل کی بدولت 50-55 سے کامیابی حاصل کی۔ تھائی لینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف 5 گول کے فرق سے جیتنا قومی نیٹ بال سیٹ اپ کی بہترین تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ فتح اس لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ پاکستان میں خواتین کے لیے انڈور کھیلوں کی سہولیات اور پروفیشنل لیگز کا شدید فقدان ہے۔
پاکستان اسپورٹس اچیومنٹس کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
یہ فتوحات اس لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہ پاکستان میں کھیلوں کی انتظامیہ کے روایتی رویوں کو چیلنج کرتی ہیں۔ تاریخی طور پر، پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) اور کارپوریٹ اسپانسرز نے انڈور اور کورٹ اسپورٹس کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود جب قومی ٹیمیں بین الاقوامی ٹائٹلز جیتتی ہیں، تو یہ نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہیں اور پاکستانی نوجوانوں کے حقیقی ٹیلنٹ کو سامنے لاتی ہیں۔
کھیلوں میں آنے کی خواہش مند نوجوان لڑکیوں کے لیے نیٹ بال ٹیم کی فتح ایک بہترین مثال ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ سماجی رکاوٹوں اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باوجود پاکستانی خواتین علاقائی مقابلوں میں حکمرانی کر سکتی ہیں۔ اسی طرح ٹینس میں چار میڈلز کی جیت یہ واضح کرتی ہے کہ ٹینس کو صرف اشرافیہ کا کھیل سمجھنے کے بجائے نچلی سطح پر فنڈنگ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ مستقبل میں بھی ایسی فتوحات دیکھنا چاہتے ہیں، تو بطور قوم اور معاشرہ ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں:
- مقامی کلبوں کی مدد کریں: اپنے شہر میں ٹینس اور نیٹ بال کے مقامی کلبوں کو تلاش کریں اور بچوں کو ان کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں تاکہ مستقبل کا ٹیلنٹ سامنے آ سکے۔
- سرکاری سہولیات کا مطالبہ کریں: اپنے علاقوں میں سرکاری اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لیے آواز اٹھائیں۔ اپنے مقامی نمائندوں کو خط لکھیں اور ایسے انڈور کورٹس کا مطالبہ کریں جو صرف نجی کلبوں تک محدود نہ ہوں بلکہ ہر عام شہری کی پہنچ میں ہوں۔
- دیگر کھیلوں کو سپورٹ کریں: سوشل میڈیا پر پاکستان نیٹ بال فیڈریشن اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کو فالو کریں۔ زیادہ ناظرین کارپوریٹ اسپانسرز کو راغب کرتے ہیں، جس سے کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات اور معاوضے ملتے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت پاکستان کے اگلے اسپورٹس بجٹ میں نیٹ بال اور ٹینس فیڈریشنز کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ سیکٹر کے رویے پر بھی نظر رکھنی ہوگی کہ آیا وہ ان چیمپئنز کی سرپرستی کے لیے آگے آتے ہیں یا اپنے تمام تر اشتہاری بجٹ صرف کرکٹ پر ہی خرچ کرتے رہیں گے۔
