پاکستان میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے beyond stigma یعنی سماجی بدنامی سے نکلنا اب سب سے اہم چیلنج بن چکا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کی طبی حالت سے زیادہ وہ سماجی رویہ ان کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے جو معاشرہ ان کے بارے میں اپناتا ہے۔ اگرچہ طبی علاج اور تھراپی بنیادی ضرورت ہے، لیکن معاشرتی خوف کے باعث بہت سے والدین اپنے بچوں کو گھروں تک محدود کر دیتے ہیں، جس سے ان کی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
بدنامی سے آگے کا سفر
پاکستان کے بہت سے گھرانوں میں، نشوونما میں تاخیر، آٹزم یا جسمانی معذوری کا شکار بچوں کو چھپایا جاتا ہے۔ یہ خاموشی اس خوف سے پیدا ہوتی ہے کہ ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر کے پاس جانے سے خاندان کی 'بدنامی' ہوگی۔ جب ہم beyond stigma کی بات کرتے ہیں، تو ہمارا مقصد اس دقیانوسی سوچ کو ختم کرنا ہے جو ان بچوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کر دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بچے اسکولوں اور سماجی سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں، ان کی بہتری کی شرح ان بچوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جنہیں گھر میں قید رکھا جاتا ہے۔
خاموشی کی قیمت
- تاخیر سے تشخیص: سماجی دباؤ کے باعث والدین اکثر تشخیص میں سالوں ضائع کر دیتے ہیں۔
- تعلیمی محرومی: لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی عام اسکولوں میں خصوصی بچوں کے لیے سہولیات کا فقدان ہے۔
- معاشی بوجھ: خاندان اکثر مستند تھراپی کے بجائے غیر سائنسی طریقوں پر اپنی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ معاشرے میں اپنے بچے کو 'نارمل' دکھا سکیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کے خاندان میں کوئی بچہ کسی طبی یا ذہنی مسئلے کا شکار ہے، تو پہلا قدم کسی مستند سرکاری ہسپتال یا ادارے سے رجوع کرنا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) جیسے ادارے تشخیص کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ لوگوں کی باتوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے بچے کی بروقت تھراپی اور تعلیم پر توجہ دیں۔ ابتدائی مداخلت ہی بچے کو ایک باوقار مستقبل دے سکتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے صوبائی تعلیمی بجٹ پر نظر رکھیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ تمام سرکاری اسکولوں میں خصوصی بچوں کے لیے داخلہ لازمی قرار دیا جائے۔ اگر یہ پالیسیاں 2026 کے آخر تک نافذ ہوتی ہیں، تو اساتذہ کی تربیت اور اسکولوں میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ معاشرتی رویوں میں تبدیلی وقت لیتی ہے، لیکن اس پر بات کرنا ہی اس بدنامی کو ختم کرنے کا پہلا قدم ہے۔
