پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھutto زرداری نے مظفرآباد میں پارٹی کے ٹکٹ ہولداروں اور عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے پی پی پی کے تجویز کردہ کمیشن کے ساتھ بات چیت کرنے کی آمادگی کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ سیاسی پیش رفت آزاد جموں و کشمیر کے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ اس بات چیت کا مقصد مقامی مظاہرین اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنا ہے۔
مظفرآباد میں سیاسی حکمت عملی کا اعلان
15 جولائی 2026ء کو مظفرآباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے اس بات پر زور دیا کہ باقاعدہ مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ جے اے اے سی نے ماضی میں بجلی کے نرخوں اور بنیادی اشیائے خوردونদ্র کی قیمتوں پر پورے خطے میں شدید احتجاج کی قیادت کی تھی۔
پی پی پی کی قیادت ایک مخصوص کمیشن کے ذریعے ادارہ جاتی طریقہ کار متعارف کرا کر عوامی بے چینی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ ادارہ عوامی شکایات کا عارضی حل نکالنے کے بجائے منظم طریقے سے جائزہ لے گا۔
کمیشن کے مقاصد اور اہداف
آزاد کشمیر میں عام شہریوں کو مہنگی بجلی اور گندم کی سبسڈی کے معاملات پر ہمیشہ شکایات رہی ہیں۔ مجوزہ کمیشن ان تمام ساختیاتی مسائل کا براہ راست حل تلاش کرے گا:
- سبسڈی کی تقسیم کے لیے ایک شفاف لائحہ عمل تیار کرنا
- مقامی اضلاع میں بجلی کی پیداوار اور بلنگ کے نرخوں کا جائزہ لینا
- مظاہرین اور اسلام آباد کے درمیان براہ راست رابطہ کاری کا نظام بنانا
مظفرآباد، میرپور اور راولاکوٹ میں عام لوگ مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ آزاد کشمیر کے رہائشی ہیں تو مصدقہ خبروں کے ذرائع پر نظر رکھیں تاکہ کمیشن کے اجلاسوں کی تاریخوں سے آگاہ رہیں۔ سوشل میڈیا پر افواہوں پر دھیان نہ دیں کیونکہ جے اے اے سی اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
بلاول ہاؤس کی جانب سے مجوزہ کمیشن کی حتمی تشکیل کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ جے اے اے سی اپنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کب کرتی ہے اور فریقین مطالبات کے چارٹر پر کس طرح متفق ہوتے ہیں۔
