عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار بیلی ایلش نے موسیقی کے سفر سے وقفہ لے کر ہولی وڈ میں ایک نیا اور دلیرانہ باب شروع کر دیا ہے، جہاں سیٹ سے سامنے آنے والی پہلی تصاویر نے ان کے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے کی تصدیق کر دی ہے۔ متعدد گریمی ایوارڈز جیتنے والی اس فنکارہ نے سلویہ پلاتھ کے کلاسک ناول 'دی بیل جار' پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے اپنی گلوکاری کو عارضی طور پر پس منظر میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر کے مداح اس حیرت انگیز خبر سے بیدار ہوئے جب سٹوڈیو کی جانب سے جاری کردہ اور میڈیا کے کیمروں میں قید تصاویر نے گلوکارہ کی فلمی روپ میں جھلک دکھائی۔

اگرچہ پاکستان کے شائقین جو روزانہ کی بنیاد پر اس کے گانے سنتے ہیں، اس بڑی تبدیلی سے کچھ مایوس ہو سکتے ہیں، لیکن انڈسٹری کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیلی ایلش طویل عرصے سے سینما میں کام کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ اسٹیڈیم ٹورز اور ریڈ کارپٹ تقریبات سے ہٹ کر ایک مشکل ادبی کردار کونچھاور کرنا ان کے کیریئر میں ایک بڑا موڑ ہے۔

فلم 'دی بیل جار' کے شوٹنگ سیٹ کی اندرونی کہانی

دنیا بھر میں گردش کرتی ہوئی پروڈیوسر کی تصاویر میں گلوکارہ کی ظاہری شکل میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں انہوں نے اپنے مخصوص فیشن کو چھوڑ کر پچاس کی دہائی کے ماحول کے مطابق لباس اپنایا ہے۔ 'دی بیل جار' ایک نفسیاتی اور سنجیدہ کہانی ہے جو ذہنی صحت کے مسائل کے گرد گھومتی ہے، اور یہ وہی موضوع ہے جس پر بیلی اپنے گانوں میں بھی بات کرتی رہی ہیں۔ عملے کے مطابق فلم کی عکس بندی کا آغاز بین الاقوامی مقامات پر ہو چکا ہے۔

پاکستانی تفریحی حلقے جو ہولی وڈ کی خبروں پر گہری نظر رکھتے ہیں، اس تبدیلی کو ایک بڑے ٹیسٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بیلی ان چند گلوکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اتنی سنجیدہ اور کلاسیکی کہانی کو اپنے پہلے بڑے فلمی پروجیکٹ کے لیے چنا ہے۔ پروڈکشن ٹیم نے تاحال فلم کی ریلیز کی حتمی تاریخ کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

مقامی شائقین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

  • نئے سٹوڈیو البمز یا عالمی ٹورز کا طویل عرصے تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پرانے گانوں کی مقبولیت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
  • ثقافتی تجزیہ کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا ان کے چاہنے والے سینما گھروں کا رخ کرتے ہیں یا نہیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں موجود مداح اگرچہ نئے گانوں کی کمی محسوس کر رہے ہیں، تاہم ان کی اداکاری دیکھنے کے لیے تجسس عروج پر ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

آنے والے مہینوں میں ہولی وڈ اسٹوڈیوز کی جانب سے جاری ہونے والے آفیشل ٹیزر پر نظر رکھیے گا۔ ہم اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا پاکستان میں شائقین کے لیے یہ فلم کن سنیما گھروں یا اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوگی۔