بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بی آئی ایس پی بند ہونے کی افواہیں سراسر بے بنیاد ہیں اور اس فلاحی اقدام کو بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یہ بات پروگرام کی چیئرمین سینیٹر روبینہ خالد نے آن لائن ای کچہری کے دوران شہریوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ منفی پروپیگنڈے پر کان نہ دھرے جائیں کیونکہ یہ امدادی سلسلہ ملک بھر میں مستحق خاندانوں کے لیے بدستور جاری رہے گا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے غریب گھرانے پہلے کی طرح اپنی سہ ماہی اقساط اور تعلیمی وظائف وصول کرتے رہیں گے۔

ای کچہری میں چیئرمین کی طرف سے اہم وضاحتیں

سینیٹر روبینہ خالد نے واٹس ایپ اور فیس بک پر وائرل ہونے والی ان جھوٹی خبروں کا نوٹس لیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ امدادی رقوم کی تقسیم ہمیشہ کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام کیش ٹرانسفرز شیڈول کے مطابق جاری ہیں۔

  • بنیادی امدادی بجٹ میں کسی قسم کی کلاٹ یا کٹوتی نہیں کی گئی
  • تمام اضلاع میں قائم رجسٹریشن اور بائیو میٹرک تصدیق کے دفاتر کھلے ہیں
  • کسی بھی فنی مسئلے کی صورت میں مستحق خواتین سرکاری ہیلپ لائن سے رابطہ کر سکتی ہیں

جعل سازوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت

ایسی افواہوں کے دوران دھوکہ باز عناصر اکثر سادہ لوح خواتین کو نشانہ بناتے ہیں۔ جعلی پیغامات اور فون کالز کے ذریعے لوگوں سے ان کے شناختی کارڈ نمبر اور پن کوڈز ہتھیانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ رقوم نکالی جا سکیں۔

یاد رکھیں کہ بی آئی ایس پی کا واحد مستند اور سرکاری نمبر 8171 ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے نمبر سے آنے والے پیغام یا کال پر ہرگز بھروسہ نہ کریں اور اپنی ذاتی معلومات کسی سے شیئر نہ کریں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو امدادی قسط موصول ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے تو سوشل میڈیا کی افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کریں۔ کسی بھی شکایت یا بائیو میٹرک خرابی کو دور کرنے کے لیے اپنے قریبی تحصیل دفتر سے رجوع کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں وفاقی بجٹ کے تناظر میں امدادی رقم میں اضافے اور نئے مستحقین کی شمولیت کے حوالے سے حکومتی اعلانات پر نظر رکھیں۔ تمام مصدقہ خبریں صرف سرکاری میڈیا اور مستند پورٹلز کے ذریعے ہی جاری کی جاتی ہیں۔