بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے world breastfeeding week 2026 in pakistan کے سلسلے میں ملک گیر آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد زچہ و بچہ کی صحت کو بہتر بنانا اور بچوں میں سوکھے پن (اسٹنٹنگ) کی شرح کو کم کرنا ہے۔ 1 اگست 2026 سے 7 اگست 2026 تک جاری رہنے والی یہ مہم عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) اور وزارتِ قومی صحت کے اشتراک سے چلائی جا رہی ہے۔

اس مشترکہ مہم کا بنیادی مقصد بی آئی ایس پی کے تحت رجسٹرڈ مستحق ماؤں کو پیدائش کے پہلے چھ ماہ تک بچوں کو صرف اور صرف اپنا دودھ پلانے کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ پاکستان اس وقت بچوں میں غذائی قلت کے سنگین بحران سے گزر رہا ہے، اور یہ مہم نچلی سطح پر موجود غریب خاندانوں تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

مہم کے اہم نکات

- تاریخ: 1 اگست 2026 سے 7 اگست 2026
- شراکت دار: بی آئی ایس پی، یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، ڈبلیو ایف پی اور وزارتِ صحت
- بنیادی پلیٹ فارم: بی آئی ایس پی نشوونما مراکز
- مالی امداد: ماؤں اور لڑکوں کے لیے 2,500 روپے اور لڑکیوں کے لیے 3,000 روپے سہ ماہی وظیفہ
- ہدف: بی آئی ایس پی کے تحت رجسٹرڈ تمام حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں
- سرکاری ویب سائٹ: bisp.gov.pk اور ہیلپ لائن 26477-0800

پاکستان میں عالمی ہفتہ رضاعت 2026 کی اہمیت

پاکستان اس وقت خطے میں بچوں کی غذائی قلت اور اسٹنٹنگ (قد نہ بڑھنے کی بیماری) کی بلند ترین شرح والے ممالک میں شامل ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے اس کا شکار ہیں۔ اس بحران کے طویل مدتی معاشی اور سماجی نقصانات سے انکار ممکن نہیں ہے۔ پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پلانا اور ابتدائی چھ ماہ تک اسے جاری رکھنا بچوں کو ہیضہ اور دیگر جان لیوا بیماریوں سے بچاتا ہے۔

اس سال world breastfeeding week 2026 in pakistan کے دوران طبی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صرف ماں کا دودھ پلانے کی عادت اپنا کر سالانہ ہزاروں بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ غریب خاندانوں کے لیے ڈبے کا دودھ خریدنا نہ صرف معاشی طور پر ناممکن ہے بلکہ یہ بچوں کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

بی آئی ایس پی نشوونما پروگرام کا کردار

حکومت نے اس مہم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اسے براہ راست بی آئی ایس پی نشوونما پروگرام سے منسلک کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے لازمی ہے کہ وہ قریبی سرکاری ہسپتالوں میں قائم نشوونما مراکز کا باقاعدگی سے دورہ کریں اور صحت کے سیشنز میں شرکت کریں۔

اس پروگرام کے تحت ماؤں کو غذائیت سے بھرپور خصوصی خوراک کے ساشے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، سفری اخراجات پورے کرنے کے لیے ماؤں کو ہر تین ماہ بعد مالی امداد دی جاتی ہے۔ ماؤں اور ان کے بیٹوں کے لیے یہ وظیفہ 2,500 روپے ہے، جبکہ بیٹیوں کے لیے اسے بڑھا کر 3,000 روپے کیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں صنفی تفریق کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ تمام ادائیگیاں بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے کی جاتی ہیں۔

عالمی اداروں اور وزارتِ صحت کا تعاون

اس مہم کے لیے یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام غذائی سپلیمنٹس کی فراہمی کو یقینی بنا رہا ہے۔ وزارتِ صحت نے لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHWs) کو متحرک کیا ہے جو گھر گھر جا کر ماؤں کو بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے فوائد سے آگاہ کر رہی ہیں۔

یونیسیف کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کام کی جگہوں پر خواتین کو سازگار ماحول فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملازمت پیشہ مائیں بھی اپنے بچوں کو دودھ پلا سکیں۔ دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر فارمولا دودھ کی غیر قانونی تشہیر روکنے کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا رہا ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایات: نشوونما پروگرام میں کیسے شامل ہوں؟

اگر آپ کے گھر یا خاندان میں کوئی حاملہ یا دودھ پلانے والی خاتون ہے، تو وہ درج ذیل طریقہ کار کے ذریعے اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں:

  1. اہلیت کی جانچ: سب سے پہلے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر بھیج کر بی آئی ایس پی کفالت پروگرام میں اپنی اہلیت چیک کریں۔
  2. نشوونما مرکز کا دورہ: اپنے قریبی تحصیل یا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں قائم بی آئی ایس پی نشوونما سینٹر جائیں۔
  3. ضروری دستاویزات: اپنے ساتھ اصل شناختی کارڈ اور بچے کا نادرا سے جاری کردہ ب فارم ضرور لے کر جائیں۔
  4. طبی معائنہ اور سیشن: وہاں موجود عملے سے اپنا اندراج کروائیں اور زچہ و بچہ کی صحت اور حفاظتی ٹیکوں سے متعلق معلوماتی سیشن کا حصہ بنیں۔
  5. مفت خوراک کا حصول: رجسٹریشن کے بعد حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مفت غذائی پیکٹ حاصل کریں۔

مستقبل کی حکمتِ عملی

وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں نشوونما مراکز کا دائرہ کار پاکستان کی تمام تحصیلوں تک پھیلا دیا جائے۔ رواں سال کے آخر میں جاری ہونے والے نئے ہیلتھ سروے کے نتائج سے واضح ہوگا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں بچوں میں غذائی قلت کی شرح میں کتنی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ، سول سوسائٹی کی جانب سے پارلیمنٹ میں فارمولا دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قوانین بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلیوں میں ملازمت پیشہ ماؤں کے لیے زچگی کی چھٹیوں کی مدت میں اضافے پر بھی بحث متوقع ہے۔