بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اشوک كول کا کہنا ہے کہ خطے کے بچے اب بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے روزمرہ کے امور انجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے کپواڑہ میں 5 اگست 2026 کو دفعہ 370 کے خاتمے کی ساتویں برسی کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر كول نے علاقے کے انتظامی اور سماجی ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کو اجاگر کیا جو اگست 2019 میں خصوصی خودمختاری ختم کیے جانے کے بعد عمل میں آئیں تھیں۔

دفعہ 370 کی منسوخی پس منظر

متنازعہ دفعہ 370 کا خاتمہ 5 اگست 2019 کو کیا گیا تھا، جس نے نئی دہلی اور اس متنازعہ خطے کے آئینی تعلقات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ پاکستانی ناظرین کے لیے دفعہ 370 سے جڑی تمام پیش رفت خطے کی خارجہ پالیسی اور سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے، بالخصوص جب اسلام آباد کشمیریوں کے حق خودارادیت پر مسلسل بات کرتا ہے۔ جہاں بھارتی قیادت معمولاتِ زندگی اور انتظامی انضمام کی تعریف کرتی ہے، وہیں ناقدین وادی میں جاری سکیورٹی بندشوں اور سیاسی آزادیوں پر قدغن کا ذکر کرتے ہیں۔

زمینی حقائق اور بی جے پی کے دعوے

کپواڑہ میں 5 اگست 2026 کو دیے گئے اشوک كول کے بیانات کا مقصد معمول اور ترقی کا تاثر دینا ہے کہ نئی نسل کی تعلیم اور روزمرہ زندگی کم متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس، علاقے میں موجود آزاد صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل سکیورٹی پہرے اور سخت ضابطوں کے تحت زندگی گزارنے کی دوسری تصویر پیش کرتی ہیں۔ سرکاری دعوؤں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے بیان کردہ زمینی حقائق کے درمیان یہ فرق خطے کی حکمرانی پر پائے جانے والے گہرے اختلافات کو واضح کرتا ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف 2019 کی آئینی تبدیلی کی برسی کے موقع پر تند و تیز ردعمل کا اظہار جاری ہے۔ آپ کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے بیانات اور مقبوضہ وادی کی صورتحال پر آنے والی بین الاقوامی رپورٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس خطے کی قانونی حیثیت سے متعلق معاملات مختلف فورمز پر زیر بحث ہیں، جو جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کو متاثر کرتے رہیں گے۔