بھارت میں آرٹیکل 370 in India کے خاتمے کے حوالے سے جاری بحث میں جمعرات 6 اگست 2026 کو اس وقت شدت آ گئی جب تلنگانہ بی جے پی کے چیف ترجمان این وی سبھاش نے اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسد الدین اویسی پر سخت تنقید کی۔ یہ بیان اس متنازعہ فیصلے کی ساتویں برسی کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

آرٹیکل 370 کا پس منظر

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت ختم کر دی تھی اور خطے کو دو وفاقی یونین علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ جہاں بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام خطے کی ترقی اور انضمام کے لیے ضروری تھا، وہیں یہ معاملہ جنوبی ایشیائی سیاست میں انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔

اس فیصلے کی ساتویں برسی کے موقع پر اسد الدین اویسی نے مبینہ طور پر اس کے طویل مدتی اثرات اور جمہوری عمل پر سوالات اٹھائے تھے۔ اس کے جواب میں این وی سبھاش کا کہنا تھا کہ کچھ سیاسی رہنما جموں و کشمیر میں قائم ہونے والے مبینہ امن کو ہضم نہیں کر پا رہے۔

بی جے پی کا علاقائی استحکام پر موقف

حیدرآباد، تلنگانہ سے بات کرتے ہوئے این وی سبھاش نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے عسکریت پسندی کو کم کیا ہے اور خطے میں معاشی ترقی کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اویسی جیسے ناقدین مقامی آبادی کے جذبات سے نابلد ہیں جو اب مرکزی حکومت کے منصوبوں اور بہتر انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

  • آرٹیکل 370 کی منسوخی کی تاریخ: 5 اگست 2019
  • تازہ ترین سیاسی تبادلے کی تاریخ: 6 اگست 2026
  • اہم شخصیات: این وی سبھاش (بی جے پی)، اسد الدین اویسی (اے آئی ایم آئی ایم)

آگے کیا ہوگا؟

پاکستان کے مبصرین کے لیے یہ بیانات بھارت میں کشمیر کے مسئلے پر سخت ہوتے سیاسی موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں معمول کے حالات اور ترقی کا بیانیہ زور و شور سے پیش کر رہی ہے، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پڑوسی ممالک کشمیری عوام کے سیاسی حقوق اور سیکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے بھارت آئندہ انتخابی مراحل کی طرف بڑھے گا، اس خطے کی حیثیت سے متعلق بیانات میں مزید شدت آئے گی۔ قارئین کو چاہیے کہ وہ بی جے پی اور اپوزیشن کے بیانات پر نظر رکھیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا یہ 'امن بمقابلہ اختلاف' کا بیانیہ بھارتی سیاسی گفتگو کا مرکزی حصہ بنتا ہے یا نہیں۔