بحیرہ اسود میں Black Sea shipping کا عمل مکمل طور پر بحال اور مستحکم ہے، اور ترک حکام نے اتوار کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بحیرہ اسود کے راستوں سے تجارتی جہازوں کی نقل و حمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
گزشتہ ہفتے کے روز بلومبرگ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹس کے بعد تحفظات پیدا ہوئے تھے کہ اس اہم تجارتی راستے پر سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، ترکی کے دو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ترکی سے جہازوں کی گزرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔
پاکستانی معیشت پر اثرات
اگرچہ بحیرہ اسود پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے، لیکن یہاں پیش آنے والی کوئی بھی تبدیلی ہماری معیشت پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ پاکستان گندم اور خوردنی تیل کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے، اور ہماری غذائی ضروریات کا ایک بڑا حصہ بین الاقوامی سپلائی چین پر منحصر ہے۔ جب بھی ان راستوں پر سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جہازوں کے انشورنس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر پاکستانی عوام کو مہنگائی کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔
ترک حکام کی جانب سے موجودہ یقین دہانی کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کسی بڑے غیر متوقع اضافے کا خدشہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
موجودہ صورتحال اور نگرانی
اتوار تک کی صورتحال کے مطابق، ترکی مونٹرو کنونشن کے تحت آبنائے ترکی کی نگرانی کر رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ تجارتی جہازوں کو کوئی مسئلہ نہ ہو۔ حکام کے مطابق:
- جہازوں کی نقل و حمل اپنے معمول کے شیڈول کے مطابق جاری ہے۔
- باسفورس یا درہ دانیال میں کسی بھی قسم کے سیکیورٹی تعطل کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
- بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں بلا جھجھک اپنے مال بردار جہازوں کو اس راستے سے گزار رہی ہیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
اگر آپ درآمدی کاروبار سے وابستہ ہیں یا ملک میں غذائی اجناس کی قیمتوں پر نظر رکھتے ہیں، تو ترکی کی وزارت خارجہ کے بیانات کو باقاعدگی سے دیکھتے رہیں۔ اگر ان راستوں پر سیکیورٹی پروٹوکول میں کوئی تبدیلی آتی ہے، تو اس کا اثر 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر عالمی منڈی میں گندم اور تیل کی قیمتوں پر نمودار ہو سکتا ہے۔ فی الحال، صورتحال معمول پر ہے اور تجارتی حلقوں کے لیے تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔
