لاہور میں محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ پر کام کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ بورڈ آف گورنرز کے اکیسویں اجلاس میں اس بڑے طبی منصوبے کی تعمیراتی رفتار اور درکار مشینری کی درآمدی شیڈول کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ملک بھر میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سرکاری سطح پر جدید علاج کی سہولیات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عوام کو سستا اور معیاری علاج فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے دوران تعمیراتی کام کی رفتار اور ٹھیکیداروں کی کارکردگی کا بھی بغور جائزہ لیا گیا تاکہ تاخیر سے بچا جا سکے۔

نواز شریف کینسر انسٹی ٹیوٹ کے تعمیراتی مراحل کا جائزہ

اجلاس میں بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنے اور منصوبے کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ ارکان نے سول ورکس، بجلی کے کام اور کینسر کے وارڈز کے لیے درکار خصوصی وینٹیلیشن سسٹمز کا معائنہ کیا۔

طبی منصوبوں میں تاخیر سے نہ صرف لاگت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مریضوں کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ حکام نے ہدایت کی کہ کام کی رفتار تیز کی جائے اور مشینری کی خریداری کے عمل کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔

مریضوں کے لیے اس پیشرفت کا کیا مطلب ہے؟

مٹی کے تیل اور مہنگائی کے اس دور میں کینسر کا مہنگا علاج غریب خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی مریضوں کا رش زیادہ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو پرائیویٹ اداروں میں بھاری قرضے لے کر علاج کرانا پڑتا ہے۔

یہ انسٹی ٹیوٹ بننے کے بعد ایک ہی چھت کے نیچے تشخیصی اور علاج کی تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہسپتال عملی طور پر کام شروع کرے گا۔

  • بنیادی ڈھانچے کے جائزے میں عمارت کی تکمیل اور طبی آلات کی درآمد شامل ہے۔
  • حکام لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے کام کی رفتار تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
  • اس سہولت کا مقصد پنجاب میں کینسر کے مریضوں پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز کینسر کے عارضے میں مبتلا ہے، تو اس انسٹی ٹیوٹ کے کھلنے کا انتظار کیے بغیر موجودہ سرکاری یا فلاحی اداروں سے علاج جاری رکھیں۔ اپنے طبی کوائف اور شناختی کارڈ کو درست حالت میں رکھیں تاکہ نئی سہولیات شروع ہوتے ہی آپ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

محکمہ صحت کی جانب سے ہسپتال کے افتتاح اور ڈاکٹروں و عملے کی بھرتی کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ اس منصوبے کا اصل امتحان عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ وہاں جدید مشینوں کی تنصیب اور مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی ہوگا۔