براڈ پیک پر پیش آنے والے ایک حادثے میں جاں بحق ہونے والے پانچ غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں سکردو منتقل کر دی گئی ہیں۔ انتہائی مشکل موسمی حالات اور خطرناک ترین پہاڑی علاقے کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھی گئیں اور میتیں کامیابی کے ساتھ نشیبی علاقوں میں لائی گئیں۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شمار ہونے والے اس پہاڑ پر ریسکیو کا یہ عمل انتہائی جان جوکھوں کا کام تھا جس میں مقامی انتظامیہ اور ماہر کوہ پیماؤں نے حصہ لیا۔

براڈ پیک حادثہ اور ریسکیو آپریشن کی تفصیلات

آٹھ ہزار میٹر سے زائد بلند براڈ پیک پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کو پیش آنے والے اس حادثے کے بعد لاشوں کی واپسی کے لیے امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ علاقے میں جاری شدید برفباری، تیز ہواؤں اور خطرناک ڈھلوانوں نے ریسکیو کے کام کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ اس کے باوجود، مقامی رضاکاروں اور ہائی الٹیٹیوڈ ریسکیو ٹیموں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کارروائی مکمل کی اور میتیں سکردو پہنچائیں۔

  • جائے وقوعہ: براڈ پیک، گلگت بلتستان
  • موجودہ صورتحال: میتیں سکردو منتقل کر دی گئی ہیں
  • درپیش مشکلات: شدید موسم، خطرناک برفانی راستے، انتہائی بلندی
  • امدادی ادارے: مقامی انتظامیہ اور ریسکیو عملہ

سفارتی اور قانونی کارروائی

میتوں کو سکردو منتقلی کے بعد ضلعی انتظامیہ اور طبی عملے کی نگرانی میں ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے توسط سے متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ضلعی حکام کی جانب سے تمام رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد میتیں ورثا اور سفارتی نمائندوں کے حوالے کی جائیں گی تاکہ انہیں آبائی ممالک روانہ کیا جا سکے.

پاکستان میں کوہ پیمائی اور حفاظتی انتظامات

گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی توجہ کا مرکز ہیں اور ہر سال ہزاروں غیر ملکی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کوہ پیمائی کے دوران خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ سیاحت گلگت بلتستان اور الپائن کلب آف پاکستان کی جانب سے ہمیشہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ مہم جوئی پر نکلنے والے تمام گروپس حفاظتی تدابیر اور موسمی رپورٹس کو لازمی مدنظر رکھیں تاکہ ایسے ناگہانی حادثات سے بچا جا سکے.

آئندہ کے متوقع اقدامات

متعلقہ حکام کی جانب سے جلد ہی اس حادثے کی مکمل رپورٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں واقعے کی وجوہات کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سکردو اور اسلام آباد میں سفارتی حکام لاشوں کی جلد از جلد وطن واپسی کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔