براڈ پیک سانحہ میں 6 اگست 2026 کو ایک اہم پیشرفت ہوئی، جب ریسکیو ٹیموں نے مزید پانچ کوہ پیماؤں کی لاشیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسکردو کے ملٹری بیس منتقل کر دیں۔
اس آپریشن کے بعد اسکردو پہنچائی گئی لاشوں کی کل تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ انتہائی بلندی پر واقع اس پہاڑ سے لاشوں کی بازیابی کا کام انتہائی مشکل حالات میں مکمل کیا گیا، جس میں مقامی انتظامیہ اور بین الاقوامی کوہ پیمائی تنظیموں نے کلیدی کردار ادا کیا۔
براڈ پیک سانحہ: ریسکیو آپریشن کی صورتحال
شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکام اب ان غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں ان کے آبائی ممالک بھجوانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 8,051 میٹر بلند اس چوٹی پر واقع دشوار گزار راستوں کے باعث ریسکیو مشن کو مکمل کرنے میں کافی وقت لگا۔ لاشوں کو محفوظ طریقے سے بیس کیمپ سے اسکردو منتقل کرنے کے لیے پاک فوج کے ایوی ایشن دستوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔
- کل بازیاب لاشیں: 8
- تازہ ترین منتقلی کی تاریخ: 6 اگست 2026
- موجودہ مقام: ملٹری بیس، اسکردو
- حیثیت: شناخت اور وطن واپسی کا عمل جاری
آگے کیا ہوگا؟
متوفین کے اہل خانہ اور کوہ پیمائی کی دنیا کے لیے اب توجہ لاشوں کی باضابطہ شناخت اور بین الاقوامی منتقلی کے قانونی مراحل پر مرکوز ہے۔ گلگت بلتستان کے حکام متعلقہ سفارت خانوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ لاشوں کی حوالگی کے لیے درکار دستاویزات کی فراہمی کو جلد از جلد یقینی بنایا جا سکے۔
اگر آپ متاثرہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، تو تازہ ترین معلومات کے لیے اسلام آباد میں اپنے ملک کے سفارت خانے سے رابطے میں رہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کی منتقلی کا عمل بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔
قراقرم میں کوہ پیماؤں کے لیے ہدایات
براڈ پیک سانحہ نے ایک بار پھر قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں کوہ پیمائی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ موسم گرما کی کوہ پیمائی جاری رہنے کے پیش نظر، حکام نے تمام مہم جوئی کرنے والی ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں۔ کوہ پیماؤں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی انشورنس میں ہائی الٹیٹیوڈ ریسکیو کو لازمی شامل رکھیں، کیونکہ ایسے ہیلی کاپٹر آپریشنز انتہائی مہنگے اور ہنگامی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری ذرائع پر نظر رکھیں۔
