براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آکر ہلاک ہونے والے تین ماہر نیپالی کوہ پیماؤں کی میتیں پاکستان سے کھٹمنڈو پہنچا دی گئی ہیں۔ یہ کوہ پیما 10 روز قبل اس وقت حادثے کا شکار ہوئے جب ایک بڑا برفانی تودہ انہیں اپنے ساتھ بہا لے گیا۔
براڈ پیک برفانی تودے کے واقعے کی تفصیلات
براڈ پیک برفانی تودے کے بعد سے مقامی حکام اور کوہ پیمائی کرنے والی کمیونٹی کی جانب سے ریسکیو آپریشن پر بھرپور توجہ مرکوز تھی۔ شدید موسمی حالات کے باعث تلاش کے عمل میں مشکلات پیش آئیں، تاہم 12 اگست 2026 کو امدادی ٹیموں نے میتیں نکالنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہیں نیپال منتقل کر دیا گیا۔
- میتوں کی واپسی کی تاریخ: 12 اگست 2026
- حادثے کا مقام: براڈ پیک، گلگت بلتستان
- واقعے کی نوعیت: شدید برفانی تودہ
- موجودہ صورتحال: میتیں کھٹمنڈو میں سوگوار خاندانوں کے حوالے
پاکستان میں کوہ پیمائی کے خطرات
8,000 میٹر سے بلند براڈ پیک اپنی خطرناک صورتحال کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ واقعہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی غیر متوقع نوعیت کی یاد دلاتا ہے۔ موسم گرما میں سینکڑوں بین الاقوامی کوہ پیما یہاں کا رخ کرتے ہیں، لیکن موسم کی شدت اور برفانی تودوں کا گرنا تجربہ کار گائیڈز کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
جو لوگ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ان کے لیے گلگت بلتستان کے مقامی حکام اور الپائن کلب آف پاکستان معلومات کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ آپ کوہ پیمائی کے موجودہ ضوابط جاننے کے لیے الپائن کلب آف پاکستان کی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔
آئندہ کے اقدامات
جیسا کہ نیپال میں سوگوار خاندان اپنی آخری رسومات کی تیاری کر رہے ہیں، توقع ہے کہ پاکستان میں کوہ پیمائی کرنے والی تنظیمیں موجودہ سیزن کے دوران اپنائے گئے حفاظتی پروٹوکولز کا دوبارہ جائزہ لیں گی۔ اب توجہ قراقرم کے بلند مقامات پر ریسکیو آپریشنز کے لیے مواصلات اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر مرکوز رہے گی۔
کوہ پیمائی کے شوقین افراد اور ماہرین منتظمین کی جانب سے تفصیلی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا ماحولیاتی عوامل نے برفانی تودے کی شدت میں کوئی کردار ادا کیا۔ فی الحال، ان تین ماہر کوہ پیماؤں کی ہلاکت نے عالمی کوہ پیمائی برادری کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے، جو دنیا کی مشکل ترین چوٹیوں کو سر کرنے کی بھاری قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔
