براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے باعث لاپتا ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش بالآخر تلاش کر لی گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی سطح پر امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی تھی۔

سہیل سخی کی تلاش اور بازیابی

الپائن کلب آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تصدیق کے مطابق، سہیل سخی کی لاش کو شگر کے علاقے تسر سے تعلق رکھنے والے مقامی رضاکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش کیا۔ ان مقامی افراد نے انتہائی مشکل موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور کوہ پیما کی میت کو بازیاب کرانے میں کامیابی حاصل کی۔

براڈ پیک، جو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک ہے، اپنے غیر متوقع موسمی حالات اور برفانی تودوں کی وجہ سے کوہ پیماؤں کے لیے انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہے۔ سہیل سخی اس پہاڑ پر مہم جوئی کے دوران برفانی تودے کی زد میں آ گئے تھے جس کے بعد سے وہ لاپتا تھے۔

مقامی رضاکاروں کا کردار

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں جب بھی کوئی کوہ پیما حادثے کا شکار ہوتا ہے، تو مقامی پورٹرز اور رضاکار ہی سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچتے ہیں۔ ان مقامی لوگوں کی مہارت اور پہاڑوں سے واقفیت ہی ہے جو اکثر ایسے مشکل مشنز کو ممکن بناتی ہے جہاں جدید آلات بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ سہیل سخی کی تلاش میں بھی ان مقامی رضاکاروں کا کردار کلیدی رہا۔

آئندہ کے اقدامات

اب جبکہ میت کو بازیاب کر لیا گیا ہے، اسے آبائی علاقے منتقل کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔ اس طرح کے واقعات کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑا سبق ہیں کہ بلندیوں پر ہر قدم کتنا اہم ہوتا ہے۔

سہیل سخی کے اہل خانہ اور لواحقین کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے۔ کوہ پیمائی سے متعلق مزید معلومات اور سرکاری اعلانات کے لیے الپائن کلب آف پاکستان کی ویب سائٹ یا ان کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز کو فالو کرتے رہیں۔