پاکستان میں بھٹہ مزدور شدید گرمی اور بھٹیوں کی دہکتی آگ کے درمیان اپنی زندگی داؤ پر لگا کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ شیخوپورہ کے اضلاع میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے، جہاں مزدوروں کو اپنے پیروں کے نیچے بنے سوراخوں سے کوئلہ بھٹیوں میں ڈالنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں بھٹہ مزدوروں کے حالات

بھٹوں پر کام کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے یہ کام محض بقا کا ذریعہ ہے۔ دن بھر چمنیوں سے نکلنے والا کالا دھواں اور بھٹی کی تپش مزدوروں کی صحت کے لیے شدید خطرات کا باعث بنتی ہے۔ سانس کی بیماریوں اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے، مگر روزگار کی مجبوری انہیں اس آگ کے سامنے کھڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔

  • درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔
  • کوئلے کی دھول اور دھوئیں سے پھیپھڑوں کی بیماریاں عام ہیں۔
  • لیبر قوانین کے اطلاق کا فقدان مزدوروں کو بے بس کر دیتا ہے۔

یہ صورتحال کیوں برقرار ہے؟

زیادہ تر بھٹہ مزدور قرضوں کے بوجھ یا دیہاڑی دار نظام کے تحت کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے پاس اپنے حقوق مانگنے یا کام چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اگرچہ پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے 'زگ زیگ' ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات اب بھی خواب معلوم ہوتے ہیں۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اب صوبائی لیبر ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ بھٹہ مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی اداروں میں رجسٹر کیا جائے۔ جب تک فیکٹری ایکٹ کا اطلاق غیر رسمی شعبوں پر نہیں ہوگا، تب تک مزدوروں کا یہ استحصال جاری رہے گا۔ آنے والے دنوں میں لیبر قوانین کے نفاذ اور مزدوروں کی صحت کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔