برطانیہ میں مقیم کشمیری کمیونٹی نے 5 اگست 2026 کو بریڈفورڈ شہر میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا مقصد پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں مقامی آبادی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ اس اجتماع میں بڑی تعداد میں تارکین وطن نے شرکت کی اور خطے میں رونما ہونے والی انتظامی اور سیاسی تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم ہونے کے باوجود ان کی جڑیں اپنی مٹی سے جڑی ہوئی ہیں۔
بریڈفورڈ مظاہرے کی تفصیلات
5 اگست 2026 کو ہونے والے اس مظاہرے میں شرکاء نے مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر خطے کے حقوق اور گورننس کے معاملات درج تھے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ اس احتجاج کا بنیادی مقصد عالمی برادری اور متعلقہ حکام کی توجہ پی او جے کے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کی طرف مبذول کرانا ہے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ برطانوی کشمیری وائرس اپنے وطن کے حالات سے مکمل طور پر باخبر ہے اور کسی بھی نامساعد صورتحال میں خاموش نہیں بیٹھے گا۔
پی او جے کے کی تازہ ترین صورتحال
گزشتہ کچھ عرصے سے پی او جے کے کے اندر انتظامی امور، وسائل کی تقسیم اور سیاسی فیصلوں کے حوالے سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔ ان تبدیلیوں کے اثرات نہ صرف مقامی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں بلکہ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم کشمیریوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ میرپور، مظفر آباد اور کوٹلی سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنے آبائی علاقوں کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آئندہ کا لائحہ عمل
مستقبل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ متعلقہ حکام اس احتجاج اور بیرون ملک سے اٹھنے والی آوازوں پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ برطانوی شہروں بالخصوص بریڈفورڈ اور برمنگھم میں مزید کمیونٹی اجلاس متوقع ہیں تاکہ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس حوالے سے مزید مستند خبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ کے ساتھ جڑے رہیں۔
