براڈ پیک پر پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں مشہور کوہ پیما نرمل پرجا اور چار دیگر کوہ پیماؤں کی ہلاکت کے بعد ان کی میتیں 6 اگست 2026 کو اسکردو پہنچا دی گئی ہیں۔ یہ واقعہ 8,047 میٹر بلند چوٹی پر پیش آیا، جس کے بعد مقامی حکام اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔

براڈ پیک برفانی تودہ: امدادی کارروائی کی تفصیلات

اس حادثے نے عالمی سطح پر کوہ پیمائی کرنے والوں کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں اتنی بلندی پر موسم کی صورتحال ہمیشہ غیر یقینی رہتی ہے۔ دوسری جانب، نیپال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما پور بہادر گرونگ (عرف یوکتا) کی آخری رسومات 7 اگست 2026 کو کھٹمنڈو میں ادا کر دی گئیں۔ ان کی آخری رسومات کے دوران انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ الوداع کہا گیا۔

پاکستان میں کوہ پیمائی کے خطرات

براڈ پیک برفانی تودہ جیسے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں پر سرگرمیوں کے دوران حفاظتی انتظامات کتنے اہم ہیں۔ اسکردو کو اس طرح کے حادثات کی صورت میں ایک مرکزی مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جہاں سے میتوں کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے آبائی ممالک بھیجا جاتا ہے۔

مستقبل کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

پاکستان کی کوہ پیمائی تنظیمیں اور مقامی انتظامیہ اس حادثے کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اگر آپ مستقبل میں ایسی کسی مہم کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اپنی انشورنس اور حفاظتی آلات کو یقینی بنائیں۔ حکام کی جانب سے جلد ہی حادثے کی تفصیلی رپورٹ متوقع ہے، جس سے آئندہ کے لیے حفاظتی حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت پوری کوہ پیما برادری ان جانوں کے ضیاع پر سوگوار ہے۔