گلگت بلتستان میں شدید خراب موسم اور برفانی طوفان کے باعث براڈ پیک پر تین کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالنے کے لیے جاری براڈ پیک سرچ آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
انتہائی بلندی پر شدید برف باری، تیز ہواؤں اور نمائش کی کمی کے باعث ریسکیو ٹیموں، پاک فوج کے ہوا بازوں اور مقامی ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز کو نیچے کے کیمپوں میں واپس بلانا پڑا۔ دوسری جانب خطے میں ہلاک ہونے والے پانچ غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشوں کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں ان کے اپنے ممالک روانہ کیا جا سکے۔
براڈ پیک ریسکیو مشن کی اہم تفصیلات
- مقام: براڈ پیک (8,051 میٹر)، سلسلہ کوہ قراقرم، گلگت بلتستان
- موجودہ صورتحال: سرچ آپریشن عارضی طور پر معطل؛ ٹیمیں بیس کیمپ پر موجود
- معطلی کی وجہ: 7,000 میٹر سے زائد بلندی پر شدید برف باری اور طوفانی ہوائیں
- لاشوں کی منتقلی: پانچ غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسلام آباد پہنچا دی گئیں
- آئندہ کا منصوبہ: موسم بہتر ہوتے ہی سرچ آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا
براڈ پیک سرچ آپریشن معطل کرنے کی وجوہات
دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر 8,000 میٹر کی بلندی پر موسم اچانک انتہائی خراب ہو گیا۔ کیمپ 3 سے اوپر موجود ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ تیز ہواؤں اور برفانی طوفان کے باعث آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا تھا اور ٹیم کی جان کو شدید خطرات لاحق تھے۔
قراقرم کے پہاڑوں میں اتنی زیادہ بلندی پر ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔ 7,500 میٹر سے اوپر کا علاقہ ’ڈیتھ زون‘ کہلاتا ہے جہاں آکسیجن کی کمی اور شدید سردی انسان کو مفلوج کر دیتی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جب تک موسم مستحکم نہیں ہوتا، ریسکیو ٹیمیں بیس کیمپ پر ہی رہیں گی۔
بلتستان کے مقامی پورٹرز اور ملٹری ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ جیسے ہی موسم صاف ہوگا، تلاش کی کارروائی دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔
غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشوں کی اسلام آباد منتقلی
براڈ پیک پر آپریشن معطل ہونے کے باوجود دیگر علاقوں سے ہلاک ہونے والے پانچ غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر سول انتظامیہ اور متعلقہ سفارت خانوں کے نمائندوں نے لاشیں وصول کیں۔ اب سفارتی مراحل مکمل کرنے کے بعد انہیں اپنے اپنے ممالک روانہ کیا جا رہا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان نے عالمی کوہ پیمائی برادری سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں نے انتہائی سخت حالات کے باوجود لاشوں کی حفاظت سے منتقلی کو یقینی بنایا۔
ٹور آپریٹرز اور کوہ پیمائی کی تنظیمیں کیا کریں؟
اگر آپ کوہ پیمائی کی مہمات چلا رہے ہیں یا گلگت بلتستان میں ٹیموں کی معاونت کر رہے ہیں تو درج ذیل امور پر فوری عمل کریں:
- بلند مقامات پر پیش قدمی روک دیں: موسم کی صورتحال بہتر ہونے تک 6,000 میٹر سے اوپر تمام مہمات کو روک دیں۔
- سیٹلائٹ رابطہ بحال رکھیں: بیس کیمپ اور اسکردو یا گلگت کے کنٹرول رومز کے ساتھ دن میں دو بار رابطہ یقینی بنائیں۔
- ہنگامی طبی سامان کی جانچ: آکسیجن سلنڈرز اور ہیلی کاپٹر انشورنس کی دستاویزات کی پہلے سے تصدیق کر لیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
- محکمہ موسمیات کی ہدایات: گلگت بلتستان میں بارش اور برف باری کے سلسلے کی تازہ ترین اطلاعات۔
- دوبارہ آپریشن کا آغاز: مقامی انتظامیہ کی جانب سے براڈ پیک پر سرچ آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان۔
- حفاظتی پالیسیوں کا جائزہ: مستقبل میں کوہ پیماؤں کے لیے جی پی ایس ٹریکرز اور جدید حفاظتی اقدامات لازمی قرار دینے کی تجاویز۔
