بروک لیسنر ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان ہو چکا ہے جس کے بعد اس نامور کھلاڑی نے پروفیشنل ریسلنگ سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ سابق ڈبلیو ڈبلیو ای اور یو ایف سی ہیوی ویٹ چیمپئن نے معروف نشریاتی پروگرام دی پیٹ میک آفی شو پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب وہ اپنی تمام تر توجہ صرف اور صرف اپنے خاندان پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ 49 سالہ سپر اسٹار کے اس فیصلے نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ریسلنگ کے پرستاروں کو حیران کر دیا ہے۔

دنیا بھر کے کھیلوں کے حلقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ کیریئر کی آخری نمائش ہفتہ، 1 اگست 2026 کو ڈبلیو ڈبلیو ای کے بڑے ایونٹ سمراسلم میں ہوئی تھی۔ اگرچہ ان کی رنگ میں واپسی کے حوالے سے ہمیشہ چہ مگوئیاں ہوتی رہتی تھیں، لیکن اس واضح اعلان نے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔ پاکستان میں اسپورٹس چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کھیل دیکھنے والے شائقین کے لیے یہ خبر ایک طویل اور یادگار دور کے خاتمے کی علامت ہے۔

سمراسلم میں آخری جلوہ

اس طاقتور کھلاڑی کا طویل کیریئر بالآخر اس وقت اختتام پذیر ہوا جب انہوں نے ہفتہ، 1 اگست 2026 کو سمراسلم کے اسٹیج پر آخری مرتبہ قدم رکھا۔ دی پیٹ میک آفی شو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ جسمانی مقابلوں کا طویل سفر اب تمام ہو چکا ہے اور وہ اپنی گھریلو زندگی کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ پاکستانی شائقین جو برسوں سے ان کے دنگل کے سحر میں مبتلا تھے، اب ان کے یادگار مقابلوں کی ویڈیوز اور ریکارڈنگز پر ہی انحصار کریں گے۔

اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے مکسڈ مارشل آرٹس اور ریسلنگ دونوں شعبوں میں کئی عالمی اعزازات اپنے نام کیے، جن میں یو ایف سی ہیوی ویٹ ٹائٹل بھی شامل ہے۔ ان کی کارکردگی نے بین الاقوامی سطح پر اسپورٹس انٹرٹینمنٹ کے معیار کو بلند کیا۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ ان کے شاندار کیریئر کے پرانے لمحات کو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ سرکاری اسٹریمنگ پلیٹ فارمز جیسے ڈبلیو ڈبلیو ای نیٹ ورک پر ان کے کلاسک میچز اور سمراسلم کا مکمل ایونٹ آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں موجود شائقین اسپورٹس چینلز کی گائیڈ چیک کرتے رہیں تاکہ آنے والے دنوں میں نشریاتی تبدیلیوں سے باخبر رہ سکیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

آنے والے ہفتوں میں ڈبلیو ڈبلیو ای کے نئے شیڈول اور آنے والے ایونٹس پر نظر رکھیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کمپنی ہیوی ویٹ ڈویژن میں اس خلا کو کیسے پر کرتی ہے۔ نوجوان ریسلرز کو ملنے والے مواقع اور نئی کہانیوں پر بھی نظر رکھیے۔