راجوری اور پونچھ کے اضلاع میں پیر 11 اگست 2025 کو بس آپریٹرز کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جس کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اس ہڑتال کا مقصد نجی گاڑیوں کی جانب سے مسافروں کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

بس آپریٹرز کی ہڑتال کی وجوہات

ٹرانسپورٹ یونینز کا موقف ہے کہ چھوٹی نجی گاڑیاں ان کے روٹس پر غیر قانونی طور پر چل رہی ہیں، جس سے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ یونین کا مطالبہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ ان غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو بغیر اجازت نامے کے مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہی ہیں۔

ہڑتال کے باعث روزمرہ کے مسافروں، طلباء اور دفتر جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سڑکوں پر بسیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنے مقامات تک پہنچنے کے لیے پریشان دیکھی گئی۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر پر اثرات

یہ احتجاج ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ بس آپریٹرز کا کہنا ہے کہ نجی گاڑیاں نہ صرف ان کا منافع کم کر رہی ہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے طے شدہ نظام کو بھی تباہ کر رہی ہیں۔ یونین رہنماؤں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار بڑھا سکتے ہیں۔

مسافروں کے لیے ہدایات

اگر آپ ان اضلاع میں سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • مقامی خبروں پر نظر رکھیں تاکہ ہڑتال یا احتجاج کی تازہ ترین صورتحال معلوم ہو سکے۔
  • احتجاج کے دنوں میں سفر کرنے سے گریز کریں یا متبادل ذرائع کا انتظام رکھیں۔
  • ٹرانسپورٹ یونینز کے اعلانات کو سنجیدگی سے لیں تاکہ آپ راستے میں پھنس نہ جائیں۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ یونینز کے درمیان کیا بات چیت ہوتی ہے اور کیا حکومت نجی گاڑیوں کے لیے کوئی نئی پالیسی وضع کرتی ہے یا نہیں۔