بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے سیکیورٹی فورسز پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13 اگست 2026 کو پنجگور کے علاقے چیڑگی میں ایک مبینہ 'جعلی مقابلے' کے دوران دو ایسے بلوچ نوجوانوں کو ہلاک کر دیا گیا جو پہلے سے لاپتہ تھے۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ نوجوان حراست میں تھے اور ان کے لواحقین طویل عرصے سے ان کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج تھے۔
پنجگور میں مبینہ جعلی مقابلے کی تفصیلات
پنجگور میں ہونے والے اس مبینہ جعلی مقابلے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بی وائی سی کا موقف ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد عسکریت پسند نہیں تھے بلکہ وہ افراد تھے جنہیں ریاستی تحویل میں رکھا گیا تھا۔
- واقعہ کی تاریخ: 13 اگست 2026
- مقام: چیڑگی، پنجگور، بلوچستان
- الزام: لاپتہ افراد کا ماورائے عدالت قتل
- متعلقہ تنظیم: بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC)
لاپتہ افراد کا مسئلہ اور قانونی پہلو
بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ موضوع ہے۔ بی وائی سی مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کے ٹھکانوں کے بارے میں شفافیت اختیار کی جائے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے ان افراد کو قانونی عمل کا موقع نہ دینا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اگرچہ سیکیورٹی حکام اکثر ایسی کارروائیوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشنز قرار دیتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں ان بیانیوں پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ پنجگور جیسے دور دراز علاقوں میں آزادانہ عدالتی نگرانی کا فقدان لواحقین کے لیے اپنے پیاروں کی موت کی حقیقت جاننے میں بڑی رکاوٹ ہے۔
شہریوں کے لیے اگلا قدم
اب تک صوبائی حکومت یا سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ صورتحال پر نظر رکھنے والے شہریوں کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی رپورٹس اور بی وائی سی کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز پر نظر رکھیں، جہاں سے مزید تفصیلات یا احتجاجی مظاہروں کی کال متوقع ہے۔
اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر، بلوچستان کے مختلف شہروں میں لواحقین کی جانب سے تحقیقات کے مطالبے کے لیے احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
